(+92) 0317 1118263

مباحات

پرانی قبرستان کی جگہ میں مسجد میں شامل کرنے کاحکم

پرانی قبرستان کی جگہ میں مسجد میں شامل کرنے کاحکم فتوی نمبر: 41259

سوال

ہمارے گاؤں کی مسجد میں تو سیع کاکام جاری ہے مسجد کی تو سیع کے لئے کھدائی ہورہی ہے مسجد کے تینوں طرف ایک پرانا قبرستان ہے جو کہ وقف ہے جبکہ ایک طرف زرعی زمین ہے زرعی زمین کا ملک مسجد کا ملبہ اپنی زمین میں ڈالنے پر کسی صورت رضامند نہیں کیو نکہ مٹی پتھریلی ہے جس سے اس کی زمین مکمل خراب ہونے کا اندیشہ ہے کیا مسجد کی مٹی اس پرانے قبرستان میں ڈالنا جائز ہے؟
مسجد کی تو سیع کے لئے جگہ کم ہے کیا مسجد کی تو سیع میں قبرستان کا کچھ حصہ شامل کرنا جائز ہے قبرستان وقف ہے اور قبرستان میں دس پندرہ سال سے مردے دفن ہونا بند ہو چکے ہے کیو نکہ اب قبرستان میں مزید مردے دفن کرنے کے لئے جگہ موجود نہیں مذکور ہ صورت میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔
گاؤں والے آپ حضرات کے جواب کے منتظر ہیں جواب ارسال فرمائیں تاکہ مزید کام جاری ہوسکے۔

الجواب حامدا و مصلیا

مذکور قبرستان اگر اتنا پرانا ہو کہ اس میں مدفون میتیں مٹی بن چکی ہوں ،اورر اب وہاں مزید تدفین بھی ممکن نہ ہو ،بلکہ وہاں تدفین کا سلسلہ بالکلیہ منقطع ہو چکا ہو،اور آئندہ بھی اس جگہ کو تدفین کے لیے استعما ل کرنے کی توقع نہ ہو تو ایسی صورت میں وقف کی افادیت کو باقی رکھتے ہوئے مسجد کی توسیع کےلئے ان پرانی قبروں کو برابر کرکے مسجد میں شامل کرنے کی بھی گنجائش ہے،ورنہ نہیں،جبکہ مسجد کا ملبہ لوگوں کی آباد زمینوں یا قبرستان میں ڈالنے کے بجائے کسی غیر آ باد ویرانے میں ڈالنا چاہیئے۔