(+92) 0317 1118263

والدین کے حقوق

والدین کا اولاد کے حق میں بددعاکرنا

والدین کا اولاد کے حق میں بددعاکرنا فتوی نمبر: 41248

الاستفتاء

(۱) کیا والدین کا اپنی اولاد کیلئے بددعا کرنا کس حد تک جائز ہے؟
(۲) اگر والدین کی بددعا قبول ہوجائے اور اولاد دنیا میں پریشانی میں مبتلا ہوجائے تو کیا یہ گناہ ہے؟
(۳) کیا اس کا گناہ والدین کو بھی ہوگا؟

الجواب حامدا و مصلیا

اولاد کی طرف سے خدمت میں کمی یاکسی حکم عدولی کی وجہ سے فوری طور پر بدعائیں کرنا توشرعاً درست نہیں جس کی ممانعت احادیث میں مذکور ہے ، اگر اس جذباتی فیصلے اوربدعاؤں سے اولاد کونقصان ہوجائے تواس کا وبال والدین پر ہوگا ،تاہم اولاد اگر والدین کی نافرمانی پراڑجائیں اورہر طرح کی اصلاح کے بعد مایوسی ہوجاچکی ہوتوایسی صورت میں انکے حق میں بدعا کرنے کی بھی گنجائش ہے مگر اس صورت میں بھی بدعاکرنے میں جلد باز ی نہ کرنا بہتر ہے ۔


عن جابر قال قال رسول اللہ ﷺ لاتدعوا علی انفسکم ولاتدعوا علی اولاد کم ولاتدعوا علی اموالکم لاتوافقوا من اللہ ساعۃ یسال فیھا عطاء فیستجیب لکم اھ رواہ مسلم (ج 1/194)


عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ ثلث دعوات مستجابات لاشک فیھن دعوۃالوالد ودعوۃالمسافر ودعوۃ المظلوم رواہ الترمذی (ج1/195)۔ واللہ اعلم۔