(+92) 0317 1118263

اشیاء و مصارف مسجد

متعلقات مسجد کو منہدم کرکے اس پر بنات کا مدرسہ قائم کرنا

متعلقات مسجد کو منہدم کرکے اس پر بنات کا مدرسہ قائم کرنا فتوی نمبر: 41179

الاستفتاء

کیا متعلقات مسجد کومنہدم کرکے مستورات کیلئے منہدم شدہ جگہ پر مدرسہ تعمیر و قائم کیا جاسکتا ہے؟
۔

الجواب حامدا و مصلیا

واضح ہوکہ متعلقاتِ مسجد اگر مسجد کی موقوفہ زمین میں بنائی گئی ہوں اور مسجد کی حدود سے بھی خارج ہوں توایسی متعلقاتِ مسجد کومنتظم کمیٹی کی مشاورت سےمنہدم کر کے اس جگہ مستورات کی دینی تعلیم کیلئے مدرسہ بنانا جائز ہے۔


کمافی الشامیۃ: شرط الواقف كنص الشارع فيجب اتباعه كما صرح به في شرح المجمع للمصنف. اهـ(ج۴ ص۴۹۵)


وفی الدرالمختار: لو بنى فوقه بيتا للإمام لا يضر لأنه من المصالح، أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع اھ (ج۴ ص۳۵۸)۔


وفي تقریرات الرافعي علی الشامیة: تحت قول المصنف لمصالحہ: لیس بقید؛ بل الحکم کذلک إذا کان ینتفع بہ عامۃ المسلمین علی ما أفاد في غایۃ البیان حیث قال: أورد الفقیہ أبو اللیث سؤالاً وجواباً فقال: فإن قیل: ألیس مسجد بیت المقدس تحتہ مجتمع الماء والناس ینتفعون بہ، قیل: إذا کان تحتہ شيء ینتفع بہ عامۃ المسلمین یجو؛ لأنہ إذا انتفع بہ عامتھم صار ذلک للّٰہ تعالیٰ أیضًا اھـ ومنہ یعلم حکم کثیر من مساجد مصر التي تحتھا صہاریج ونحوہا اھ(ج۴ ص۸۰ زکریا)۔ واللہ اعلم بالصواب۔