(+92) 0317 1118263

کاروبار

ایڈورٹائزمنٹ کمپنی میں انوسٹمنٹ کرنا

ایڈورٹائزمنٹ کمپنی میں انوسٹمنٹ کرنا فتوی نمبر: 41039

الاستفتاء

اسلام و علیکم محترم مفتی صاحبان۔
میرا سوال یہ ھے کہ میں ایک کمپنی میں رقم جمع کروانا چہتا ہوں جو کہ ایک انٹرنیشنل کمپنی ھے اور وہ کمپنی ایک لاکھ روپے کے عیوض روزانہ کا پروفٹ مجھے کبھی 500 کبھی 400 اور کبھی کم زیادہ اداہ کرے گی اور میری جو اپنی رقم ھے وہ کمپنی کے پاس بغیر کسی کمی کے پڑی رھے گی اور اس رقم میں کوئی کمی نہی ہوگی اور وہ کمپنی میرے پیسوں سے اپنا کاروبار کرے گی لیکن اس کاروبار میں جو بھی نقصان ھوگا وہ کمپنی پورا کرے گی مجھے وہ پروفٹ ہی دے گی اور اس کمپنی کی ویب سائٹ بھی ھے جھاں میں اپنا اکاؤنٹ بھی بناؤں گا اور اس ویب سائٹ پر جاکر ہم اپنی رقم بھی دیکھیں گے اور کچھ ایڈورٹائزمنٹ کی ویڈیوز بھی دیکھیں گے جس سے ھمیں پوائنٹ ملیں گے اور وہ پوائنٹ بعد میں پیسوں کی شکل میں تبدیل ھو جائیں گے یہ کمپنی مختلف کمپنیںیوں کی ایڈورٹائزمنٹ کرتی ھے اور ان کی اپنی مارکیٹس بھی ہیں جس سے یہ کمائی کرتے ھیں جناب عالی کیا اسلام اور شریعت کی روح سے یہ کاروبار کرنا میرے لیے جائز ھے؟ برائے کرم آگاہ کیجیے گا آپکے جواب کا انتظار ھے اللہ تعالی ھماری بہتر رھنمائی فرمائے آمین اسلام و علیکم

الجواب حامدا و مصلیا

صورت مسئولہ میں مذکور کمپنی رقم جمع کروا کر نفع نقصان میں شرکت کئے بغیر محض نفع میں شرکت کرکے رقم وصول کرناسودی معاملہ کی ایک شکل ہونےکی وجہ سے شرعاًناجائز اورحرام ہے، اس لئے سائل پر لازم ہے کہ اپنا اصل سرمایہ وصول کرکے اس معاملے کوختم کردے، ایسی کمپنیاں جن کابنیادی کام ایڈورٹائزمنٹ دیکھنا ہو،اوراسی غرض کےلئےوہ اکاؤنٹ بنواتی ہوں (چاہے ممبر شپ انویسٹمنٹ ہویانیٹ ورک مارکیٹنگ میں ہو ) ان میں شرعی اعتبار سے کئی خرابیاں پائی جاتی ہیں۔
1)ایڈز دیکھنا کوئی ایسا عمل نہیں جسے اجارہ کا معقود علیہ قرار دیا جاسکے، اور ایڈز دیکھنے والے ممبر کو اس پر اجرت کا مستحق ٹھہرایا جاسکے۔
(2)بہت سے اشتہارات غیر شرعی امور پر بھی مشتمل ہوتے ہیں۔
(3)مصنوعی طریقہ سے ویورز کی تعداد کو بڑھا کر دکھایا جاتا ہے جوکہ دھوکہ دہی کے زمرہ میں آتا ہے۔
(4)اگر کمپنی کے ساتھ نیٹ ورک مارکیٹنگ کاکام بھی جڑا ہوتو اسکی خرابی مزید بڑھ جاتی ہے ۔
ایسی تمام کمپنیاں جواشتہارات دیکھنے کی اجرت دیتی ہو ،اوراشتہارات نہ دیکھنے کی صورت میں منافع کم یابالکل ختم ہوتا ہو ،ایسی کمپنیوں کاممبر بننااورکسی اورکو بنانادرست نہیں۔


كما في الدر المختار :(هي) لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية وسيجيء. اھ


وفي الشامیۃ: تحت(قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء .......... فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية،. (6/4).


وفي البدائع: (ومنها): أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ (6/59).


وفي فقه البيوع : إن كان بيع المنتج مشروطا بأن يدخل الشتري في شبكة التسويق، فهذا البيع فاسد، لاشتراط مالا يقتضيه العقد (2/812). والله اعلم