(+92) 0317 1118263

چندہ

مقامی مسجد کے لئے مدرسہ کے نام پرچندہ کرنا

مقامی مسجد کے لئے مدرسہ کے نام پرچندہ کرنا فتوی نمبر: 40648

الاستفتاء

السلام علیکم ورحمت اللہ!
حضرات مفتیان کرام دریافت طلب مسئلہ یہ تھا کہ ایک مسجد میں (مسجد اور مدرسے کے نام) پرچندہ جمع کیا جاتا ہے لیکن اس مسجد میں نہ طلباء کرام کا قیام ہے اور نہ مدرسے والا نصاب ہے صرف قرآن ناظرے سے پڑھایا جاتا ہے اور بچے سب اہل محلہ کے ہیں پڑھنے کے بعد سب گھروں میں واپس چلت جاتے ہیں اب اس مسجد میں جہاں مسجد کے نام پر کیا جاتا ہے وہاں مدرسے کے نام پر بھی لیا جاتا ہے کیا مدرسے کے نام پر چندہ لینا جہاں مدرسے والی شرائط نہ ہوں جائز ہے کیا؟ اور اس پیسے کو انتظامیہ مسجد یا امام صاحب کی تنخواہ میں دیتے ہیں کیا ان کا لینا درست ہے؟ دوسرا یہ کہ اسی مسجد میں آلہ مکبر صوت پر چندہ اکٹھا کیا جاتا ہے اور ہر دینے والے کا نام لیا جاتا ہے اور جس نے ابھی تک دیا نہ ہو اسکا نام لے کر انتظار کیا جاتا ہے کیا اسطرح سے چندہ کرنا جائز ہے؟

الجواب حامدا و مصلیا

واضح ہو کہ مسجد ومدرسہ کے لئے مناسب طریقے سے چندہ کرناتو جائز ہے،مگر اس چندہ کے لئے بلا وجہ ایسے حیلے کرنا کہ لوگ لازماً چندہ دیں درست نہیں،جس سے احتراز چاہیئے،جبکہ مسجد و مدرسہ کی منتظم کمیٹی ایک ہو تو دونوں کےلئے اکھٹا چندہ کرنا بھی درست ہے،پھر مسجدومدرسہ کی ضروریات، تعمیر اور امام ومؤذن کی تنحواہ میں لگانا بلا شبہ جائز ہے،نیز مسجدومدرسہ کے چندہ کےلئے رہائشی طلباء کا ہونا بھی لازم نہیں،البتہ اگر کوئی شخص صدقات واجبہ(زکوٰۃ،صدقۃ الفطر،نذر)کی رقم مسجدومدرسہ میں دینا چاہے تو اس رقم کو براہ ِ راست مسجدومدرسہ میں لگانا درست نہیں،البتہ تملیک ِ شرعی کے بعد اگر مسجدومدرسہ اور تنخواہوں میں زکوٰۃ غیرہ کی رقم لگا ئی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں،اسی طرح لوگوں کی ترغیب کےلئے نام لیکر چندہ کیا جائے تو اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے مگر اس طریقہ کار کو بطورِ ہتھیار استعمال کرنا تاکہ لوگ شرما شرمی میں چندہ دیں، بالکل غلط او راہلِ دین اور مدارس کو بدنام کرنے کا ذریعہ ہے،جس سے بہر حال احتراز لازم ہے۔


کما فی فتح الباري لابن حجر :وإن كان المتطوع ممن يقتدى به ويتبع وتنبعث الهمم على التطوع بالإنفاق وسلم قصده فالإظهار أولى اھ (ج3/ ص289)۔


وفی عمدة القاري شرح صحيح البخاري{وَإِن تخفوها وتؤتوها الْفُقَرَاء} (الْبَقَرَة: 172) . فِيهِ دَلِيل على أَن إسرار الصَّدَقَة أفضل من إظهارها، لِأَنَّهُ أبعد عَن الرِّيَاء إلاَّ أَن يترتب على الْإِظْهَار مصلحَة راجحة من اقْتِدَاء النَّاس بِهِ، فَيكون أفضل من هَذِه الْحَيْثِيَّة، والإسرار أفضل لهَذِهِ الْآيَة. (ج8/ص 285)۔


وفی الدر المختار: وفي الدرر وقف مصحفا على أهل مسجد للقراءة إن يحصون جاز وإن وقف على المسجد جاز ويقرأ فيه،اھـ (ج4/ص 365)۔


رد المحتار:مطلب متى ذكر للوقف مصرفا لا بد أن يكون فيهم تنصيص على الحاجة(قوله: إن يحصون جاز) هذا الشرط مبني على ما ذكره شمس الأئمة من الضابط وهو أنه إذا ذكر للوقف مصرفا لا بد أن يكون فيهم تنصيص على الحاجة حقيقة كالفقراء۔ اھـ (ج4/ص 365)۔واللہ اعلم