(+92) 0317 1118263

احکام نماز

کوروناوائرس کی وجہ سے صف میں نمازیوں کے درمیان فاصلہ رکھنا

کوروناوائرس کی وجہ سے صف میں نمازیوں کے درمیان فاصلہ رکھنا فتوی نمبر: 40619

الاستفتاء

دنیا میں بہت سی جگہوں پر دوبارہ مساجد کھل گئی ہیں، البتہ گورنمنٹ کی ہدایات ہیں کہ نمازیوں کے درمیان دو میٹر کا فاصلہ ہو، یہ آپ ﷺ کے واضح حکم کے خلاف ہے، سوال یہ ہے کہ اس طرح نماز پڑھنے سے نماز قبول ہوگی؟ اور کیا یہ درست ہے؟

الجواب حامدا و مصلیا

جماعت کے دوران نمازیوں کا ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑا ہونا مسنون اور نماز کی تکمیل کا حصہ ہے، نبی کریم ﷺ نے اس کی بہت زیادہ ترغیب بیان فرمائی ہے اور صف کے درمیان خالی جگہ چھوڑنے پر سخت قسم کی وعید بیان فرمائی ہے، اس لئے اگر دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے صفوں کے درمیان وصل ممکن ہو تو ایسی صورت میں اس سنت کو ترک نہیں کرنا چاہئے، تاہم اگر دیگر تدابیر پر عمل ممکن نہ ہو اور ایک ساتھ مل کر کھڑے ہونے سے کرونا وائرس کے پھیلنے کا واقعۃً خطرہ ہو تو ایسی صورت میں انسانی جانوں کا تحفظ کرتے ہوئے اگر ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہوکر نماز ادا کی جائے تو امید ہے کہ کوئی گناہ نہ ہوگا، اور نماز بھی درست ادا ہوجائے گی۔


وفی مشکوٰۃ المصابیح: وعنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ: ’’سوّوا صفوفکم فإن تسویۃ الصفوف من إقامۃ الصلاۃ‘‘ إلا أن عند مسلم: ’’من تمام الصلاۃ‘‘۔ (ج۱، ص۳۴۰)۔


وفی عمدۃ القاری: وکذلک الحق بذلک بعضہم من بفیہ بخر او بہ جرح لہ رائحۃ، وکذلک القصاب والسماک والمجذوم والابرص اولی بالالحاق، وصرح بالمجذوم ابن بطال، ونقل عن سحنون لا اری الجمعۃ علیہ واحتج بالحدیث، والحق بالحدیث کل من اذی الناس بلسانہ فی المسجد، وبہ افتی ابن عمر رضی اللہ عنہ، وہو اصل فی نفی کل ما یتاذی بہ۔ الخ (ج۶، ص۱۴۶)۔ واللہ اعلم بالصواب