(+92) 0317 1118263

خرید و فروخت

فصل کے تیار ہونے سےقبل کسی سے وعدہ بیع کرنا

فصل کے تیار ہونے سےقبل کسی سے وعدہ بیع کرنا فتوی نمبر: 40576

الاستفتاء

ایک شخص نے ایک کمپنی سے گندم کا بیج خرید نا چاہا تو کمپنی نے اسے بیج دیا لیکن ساتھ یہ ایگریمنٹ (مذکورہ ایگرمنٹ کی حیثیت ایک وعدہ کی ہے) بھی کیا کہ اس کی فصل ہمیں دو گے اور فصل دیتے وقت جو بازاری قیمت ہو گی اس سے کچھ زیادہ پر کمپنی لینے کی پابند ہو گی؟ اب اس معاملہ کہ بعد جب گندم آیا تو مالک نے وہ گندم امانتا کمپنی کے پاس رکھوادی کہ اسے امانتا رکھیں، اورہم اسے جب بیچیں گے جب مارکیٹ میں ریٹ اچھےہو گے؟ آیا یہ معاملہ شرعا درست ہے؟نوٹ:گندم کمپنی کے پاس امانتا محفوظ ہے؟

الجواب حامدا و مصلیا

کمپنی نے مذکور شخص کو گندم کا بیج فروخت کر تے وقت اگر باقاعدہ یہ شرط نہیں رکھی تھی کہ آپ نے فصل کمپنی کو فروخت کرنی ہوگی اور نہ ہی اس وقت فصل کی خریداری کے متعلق ان کے درمیان کوئی باقا عدہ عقد ہو تھا، بلکہ مذکور شخص نے یکطرفہ طور پر کمپنی کو فصل فروخت کرنے کا وعدہ کیا تھا اب فصل تیار ہونے بعد اس نے بطورامانت وہ فصل کمپنی کے پاس رکھ دی ہو جو کہ مارکیٹ ریٹ زیادہ ہونے پر کمپنی کو فروخت کی جائے گی تو شرعا اس معاملہ کی گنجائش ہے، بشرطیکہ اسے کسی ناجائز معاملے کیلئے بطور حیلہ اختیار نہیں کیا گیاہو۔


کما فی الھدایۃ:’’وکذلک لو باع عبدا علی ان یستخد مہ البائع شھرا اودارا علی ان یسکنھا او علی ان یقرضپ المشتری درھما او علی ان یھدی لہ ھدیۃ‘‘:لانہکشرط لا یقتضہ العقد وفیہ منفعۃلا حد المتعاقدین: ولانہ علیہ الصلاۃ والسلام نہی عن بیع وسلف: ولانہ لو کان الخدمۃ والسکنی یقا بلھما شیء من الثمن یکون اجارۃ فی بیع ،ولو کان لا یقا بلھما یکون اعارۃ فی بیع وقد نہی النبی علیہ الصلاۃ والسلام عن صفقتین فی صفقۃ قال:’’ومن باع عینا علی ان لا یسلمہ الی راس الشھر فالبیع فاسد‘‘:الخ(ج۳؍۶۰)


وفی فقۃ البیوع:ومن قبیل زیادہ الشرط فی البیع، مایسمی’’صفقۃ فی صفقۃ وھو ان یشترط فی العقد عقد اخر،مثل :ان یقول البائع‘‘بعتک داری بکذا علی ان تبیعنی سیارتک بکذا’’وقد اتفق العلماء علی کونہ ممنو عا شرعا اھ (ج۱؍۴۹۲)واللہ اعلم باالصواب !