(+92) 0317 1118263

قرآن و حدیث کے آداب و احکام

من گھڑت روایت کو درست حدیث سمجھ کر اس پر عمل کرنا

من گھڑت روایت کو درست حدیث سمجھ کر اس پر عمل کرنا فتوی نمبر: 40503

الاستفتاء

آج کل ایک میسج چل رہا ہے کہ(وتر کی نماز پڑھنے کے بعد دو سجدے کرنے ہیں، پہلے میں ’’سبوح قدوس رب الملآئکة والروح‘‘ پانچ مرتبہ پڑھ کر جلسہ کرنا ہے اور آیت الکرسی ایک مرتبہ پڑھ کر دوبارہ سجدہ میں ’’سبوح قدوس رب الملآئکة والروح‘‘پانچ مرتبہ پڑھنا ہے) یہ وظیفہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بتایا ہے۔ اس کے فضائل میں ہے کہ جگہ سے اٹھنے سے پہلے اس کی اللہ مغفرت فرماتے ہیں، اور اس کو سو حج سو عمرےسو شہیدوں کا ثواب عطا فرماتے ہیں، ہزا ر فرشتے نازل کرتے ہیں جواس کے لیے نیکیاں لکھتے ہیں اور ساٹھ بندوں کی سفارش کا حکم اللہ فرمائیں گے۔

کیا یہ کسی حدیث سے ثابت ہے؟ اور اس پر عمل کرنے والے کو ثواب ملے گا؟

الجواب حامدا و مصلیا

سائل نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے اس کو محدثین اور شرّاح حدیث نے موضوع اور من گھڑت قرار دیا ہے، اس لئے اس کو درست سمجھ کر اس پر خود عمل کرنے اور آگے پھیلانے سے احتراز چاہئے۔


وفی غنیۃ المتملی: واما ما ذکرہ فی التاتارخانیۃ عن المضمرات ان النبی ﷺ قال لفاطمۃ رضی اللہ عنہا: ما من مومن ولا مومنۃ یسجد سجدتین یقول فی سجودہ خمس مرات ’’سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح‘‘ ثم یرفع راسہ ویقراہ اٰیۃ الکرسی مرۃ ثم یسجد ویقول خمس مرات‘‘ سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح‘‘ والذی نفسی محمد بیفہ انہ لا یقوم من مقامہ حتی یغفر اللہ لہ واعطاہ ثواب مائۃ حجۃ ومائۃ عمرۃ واعطاہ ثواب الشہداء وبعث الیہ الف ملک یکتبون لہ الحسنات وکانما اعتق مائۃ رقبۃ واستجاب اللہ لہ دعاءہ ویشفع یوم القیامۃ فی ستین من اہل النار واذا مات مات شہیدًا فحدیث موضوع باطل لا اصل لہ ولا یجوز العمل بہ ولا نقلہ الا لبیان بطلانہ کما ہو شان الاحادیث الموضوعۃ ویدلک علی رکاکتہ والمبغالتہ الغیر الموافقۃ للشرع والقعل۔ اھـ (ج۱، ص۶۷۱)