(+92) 0317 1118263

قرآن و حدیث کے آداب و احکام

کیاشہادت کی وجہ سے قرض بھی معاف ہوجاتاہے؟

کیاشہادت کی وجہ سے قرض بھی معاف ہوجاتاہے؟ فتوی نمبر: 40502

الاستفتاء

جناب! السلام علیکم، "يغفر للشهيد كل شي الا الدين" اور میں نے غالبا رائیونڈ تبلیغی مرکز میں ایک مفتی صاحب سے سنا تھا کہ قضا نمازیں شہید کو بھی معاف نہیں، تو جناب اس کے بارے میں آپ صاحب مجھے اس کی وضاحت کریں؟
میرا مطلب یہ ہے کہ کیا اُس کے لۓ قضاء نمازیں بھی معاف ہوجائیں گے؟

الجواب حامدا و مصلیا

شاید سائل کو سننے میں غلطی ہو گئی ہو ورنہ احادیث مبار کہ کی رو سے دین (قرض) کے سوا تمام گناہ شہید کے معاف ہو نگے۔


کما فی تکمۃ فتح الملھم: عن قتادۃ انہ سمعہ یحدث عن رسول اللہ ﷺ امپ قا، فیہم، فذکرلھم ان الجھاد فی سبیل اللہ والا یمان بااللہ افضل الاعمال،فقام رجل،فقال: یا رسول اللہ ارایت ان قتلت فی سبیلاللہ تکفر عنی خطایای؟ فقال لہ رسول اللہ ﷺ: نعم، ان قتلت فی سبیل اللہ وانت صابر محتسب مقنل غیر مدبر، ثم قال رسول اللہ ﷺ:کیف قلت؟ قال ارایت ان قتلت فی سبیل اللہ اتکفر عنی خطایا ی؟ فقال رسول اللہ ﷺ ؟نعم، وانت صابر محتسب مقبل غیر مد بر، الا الدین فان جبرئیل علیہ السلام قال لی ذلک، اہـ


(تحت قولہ ’’الاالدین‘‘فیہ تنبیہ علی جمیع حقوق الا د مبین،وان الجھاد والشھادہ وغیرھما مناعمال البر لا یکفر حقوق لا د میین، وانما یکفر حقوق اللہ تعالی اھج (ج۳، ص۴۱۱)


وفی ھامش فتح المھم:(قولہ’’یکفر کل شیئ الا الدین‘‘ ظاھر انہ یکفر الکبائر حقوق اللہ ایضا،والمشھود انھا لا تکفر الا بالتوبۃ، ولعل التطبیق بینھما ان الظا ہر من المجاھد المخلص الذی عرض حیاتہ علی اخطار الموت انہ قد اقدم علی ذلک بعد ما تا ب من کبائرہ، فکانت الشھادۃ مطھرۃ لہ لجمیع الذ نوب کبیر ھا وصغیر ھا، اھـ (ج۳ص۴۱۲)۔


وفی مفاتیح فی شرح المصا بیح:قولہ:’’الاالدین‘‘: ھذا یدل علی ان الشھید یغفر لہ الذنوب الصغائر والکبائر، الاالدین، ولمراد بالدین: حقوق الادمیین من دمائھم وأموالھم وأعراضھم، أعنی:تطویل السان فی عرضھم بالغیبۃ والبھتان والقذف، وغیر ذلک من حقوق الا دمیین، فانہ لا یعفی بالتوبۃ، بل الطریق الا ستحلال منھم، أو دفع حسنات الظالم الی المظلوم بقدر حقہ،أو عنایۃ اللہ فی حق الظالم بأن یتوب ویتضرع الی اللہ، ویبالغ فی الأ عمال الصالحۃ، حی یرضی اللہ عنہ ویر ضی خصمہ من خزانۃ کرمہ (۳؍۴۶۸)


فیض القدیر: (یغفر للشھید کل ذنب الا الدین) بفتحالدال والمراد بہ جمیع حقوق العباد من نحو دم ومال وعرض فانھا لا تغفر بالشھادۃ وذا فی شھید البر أما شھید البحر فیغفر لہ حتی الدین لخبر فیہ والکلام فیمن عصی باستدانتہ أما من استدان حیث یجوز ولم یخلف وفاء فلا یحبس عن الجنۃ شھیدا أو غیرہ (۶؍۴۶۳)