(+92) 0317 1118263

ملازمت

سینمابنانے والی کمپنی میں ملازمت کرنا

سینمابنانے والی کمپنی میں ملازمت کرنا فتوی نمبر: 40476

الاستفتاء

سوال : میں سعودیہ میں رہتا ہوں، او رمجھے ایک سال پہلے کمپنیوں کے ایک گروپ میں جاب ملی اور ایک مہینہ بعد انہوں نے مجھے اپنی ایک اور کمپنی میں ٹرانسفر کردیاجو چین میں تعمیرات کرتی ہے۔ میں ایک سال سے انکے ساتھ کام کر رہاہوں، مجھے یقین ہے کہ سینما بنانے والی کمپنی میں کام ٹھیک نہیں۔ میں ایک سال سے دعا بھی مانگ رہا ہوں اللہ سے کہ اللہ مجھے کسی دوسری کمپنی میں کام دے دیں، لیکن ایک سال ہوگیا کہیں اور چانس نہیں بنا، برائے مہربانی میری رہنمائی کردیں سینما بنانے والی کمپنی میں میرا جاب حلال ہے یا حرام ؟ میری تنخواہ کا کیا حکم ہے؟ میری تنخواہ سے زکوٰۃ اور صدقہ کا کیا حکم ہے۔ اب مجھے لگتا ہے کہ میری کمائی حرام ہے تب میری دعا قبول نہیں رہی جاب چھوڑنا چاہتا ہوں تاکہ اس حرام کمائی سے جان چھوٹ سکے، لیکن تنگ دستی کا خوف ہے، برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائے شریعت کیا کہتی ہے۔

الجواب حامدا و مصلیا

صورت مسؤلہ میں سائل کیلئے مجبوری کی صورت میں مذکور کمپنی میں ملازمت اختیار کرنے اور اس سے حاصل شدہ آمدنی کو اپنے استعمال میں لانے اور اس سے صدقہ وخیرات دینے کی گنجائش ہے البتہ جب اسکے علاوہ کوئی غیر مشتبہ ملازمت میسر ہوجائے تو اسے اختیار کرنا چاہئے۔


کما حاشية الطحطاوی: معاملة من أکثر ماله حرام لا تحرم مبايعته حيث لم يتحقق حرمة ما أخذه منه ولکن يکره خوفا من الوقوع في الحرام کذا في فتح القدير. اه (ج۱ /ص۲۴)


وفی المبسط للسرخسی: وان کان لرجل دین علی رجل فقضاہ من ثمن خمر أو خنزیر لم یحل لہ أن یأخذہ إلا أن یکون الذي علیہ الدین کافرا فلابأس حنیئذ .اھ (ج۲۴ /ص۴۸)


وفی الاشباہ والنظائر لابن نجیم : إذا کان غالب مال المھدي حلالا، فلا باس بقبول ھدیتہ، وأکل ملہ مالم یتبین أنہ من حرام، وإن کان غالب مالہ الحرام لایقبلھا، ولایأکل . اھ (ج۱ /۱۱۲)واللہ اعلم بالصواب.