(+92) 0317 1118263

احکام رمضان

کیاباوجودعذروزہ نہ توڑنے کی وجہ سے موت خودکشی کہلائیگی؟

کیاباوجودعذروزہ نہ توڑنے کی وجہ سے موت خودکشی کہلائیگی؟ فتوی نمبر: 40473

الاستفتاء

سوال :روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہونے کے باوجود روزہ رکھ کر بیماری وضعف بڑھ جانے کی صورت میں موت آجائے تو کیا یہ خود کشی شمار ہوگی؟

الجواب حامدا و مصلیا

اگر روزے کی حالت میں بھوک اور پیاس اتنی شدت اختیار کرجائے جس کی وجہ سے ھلاکت کااندیشہ غالب ہوجائے تو ایسی صورت میں روزے کو توڑ دینا واجب ہے، اگر کوئی ایسی حالت میں بھی روزہ نہ توڑے اور فوت ہوجائے تو وہ گنہگار ہوگا، مگر اس کو خود کشی کے ساتھ جوڑنا درست نہیں۔


کما فی الهندية: ومن امتنع اکل الميتة المخمصة أو صام، ولم ياکل حتی مات يأثم. کذا في الاختيار شرح المختار. اھ (ج388/5).


وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: يجوز الفطر لمن حصل له أو أرهقه جوع أو عطش شديد يخاف منه الهلاك أو نقصان العقل أو ذهاب بعض الحواس، بحيث لم يقدر معه على الصوم، وعليه القضاء. فإن خاف على نفسه الهلاك، حرم عليه الصيام، لقوله تعالى: وَلَا تُلْقُوْا بَأَيْدِيْكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ.(ج648/2) واللہ اعلم بالصواب