(+92) 0317 1118263

کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء

نومسلم کو شراب چھوڑنے کیلئے ایک ماہ کی مہلت دینا

نومسلم کو شراب چھوڑنے کیلئے ایک ماہ کی مہلت دینا فتوی نمبر: 40391

الاستفتاء

مفتی صاحب السلام علیکم!
سوال یہ کہ اگر کوئی شخص امریکہ میں ھے اور اسے شراب پینے کی عادت ھے تبلیغ سے اسلام لے آیا ھے مگر شراب کی عادت ایک دم نہیں چھوڑ پا رھا کیا قرآن مجید کے اصول تدریج کے تحت اسے ایک ماہ یا ڈیڑھ ماہ کی اجازت دی جاسکتی ھے کہ وہ اپنی عادت کو چھوڑ پائے۔ کیا اصول تدریج کے تحت شریعت میں اس کی گنجائش ہے؟ براہ کرم رھنمائی فرما دیں؟

الجواب حامدا و مصلیا

جو نومسلم اب اسلام قبول کر چکا ہو اس کیلئے بھی اب شراب کا پینا درست نہیں بلکہ حرام ہے، اگر شراب کے نشہ کو چھوڑنے سے تکلیف ہوتی ہے تو کسی ڈاکٹر سے اس کا علاج کراسکتا ہے، تاکہ اس نشہ کی عادت ختم ہوجائے۔


کما في تکملة فتح الملهم: عن أنس بن مالك، قال: كنت أسقي أبا عبيدة بن الجراح وأبا طلحة وأبي بن كعب شرابا من فضيخ وتمر، فأتاهم آت، فقال إن الخمر قد حرمت فقال أبو طلحة: يا أنس قم إلى هذه الجرة فاكسرها، فقمت إلى مهراس لنا فضربتها بأسفله، حتى تكسرت اه(ج3 610/)


وفی شرحہ: قولہ: فما راجعوھا ولاسالوا عنھا والمراد انھم بامر اللہ سبحانہ و تعالی دون أن یعتریھم و فی ذلک شک او شوق الی ما الفوہ طول عمرھم، وبہ یظھر ما کان علیہ الصحابة من الاستسلام الکامل لاوامر اللہ ورسولہ ، حیث ترکوا عادتھم الالیفة فی شرب الخمر فی لحظة واحدة، ولم یمنعھم من ذلک حبھم الشدید لھا وولوعھم بھا، مع ما کانت الخمر فی مجتمع اھل العرب من عناصر حیاتھم التی لایعیشون بدونھا، فرضی اللہ تعالی عنھم وارضاھم ا ھ (ج 609/3)۔


(وحرم قليلها وكثيرها) بالإجماع (لعينها) أي لذاتها وفي قوله تعالى: إنما الخمر والميسر الخ و الاية عشر دلائل على حرمتها مبسوطة في المجتبى وغيره.


و فی الشامية: قال في الهداية: وهذا كفر لأنه جحود الكتاب فإنه سماه رجسا والرجس ما هو محرم العين وقد جاءت السنة متواترة أن النبي عليه الصلاة والسلام حرم الخمر وعليه انعقد إجماع الأمة ولأن قليله يدعو إلى كثيره وهذا من خواص الخمر.(448/6) والله أعلم!