(+92) 0317 1118263

احکام نماز

تکبیرتحریمہ کے وقت ہاتھ کہاں تک اٹھاناچاہئے؟

تکبیرتحریمہ کے وقت ہاتھ کہاں تک اٹھاناچاہئے؟ فتوی نمبر: 40387

الاستفتاء

نماز میں تکبیر کے وقت ہاتھوں کی کیا صورت ہو نی چاہئے ،ہم نے تو پڑھا تھا کہ کانوں کی کی لو کے برابر آپ کا انگو ٹھا، ہونا چاہئے ،آج کہیں پڑھا کہ کند ھوں کے برابر ہونی چا ہئے اس حدیث کے مطابق المستدرک للحاکم حدیث:۸۵۶) وسند حسن امام حاکم نے المسدرک (۲۳۴؍۱) میں اور حافظ ذھبی نے اس سے صحیح کپاں ہے وسنن ابو داود حدیث(۷۵۳)وجامع ترمذی حدیث(۲۴۰)وسند حسن رسول اللہ ﷺ (؟)دونون ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے صحیح بخاری حدیث :۷۳۵)وسند مسلم حدیث: ۳۹۰)نبی کریمﷺ کبھی کبھی ہاتھ کانوں تک بلند فر ماتیں، صحیح مسلم حدیث:ُوضاحت:ہاتھوں سے کانون کو چھونے کی کوئی دلیل نہیں ہے لہٰذا ان کو چھونا بدعت ہے ،وضاحت کر دے یہ ٹھیک ہے یا ضعیف؟

الجواب حامدا و مصلیا

تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ کانوں کے لو تک اٹھانے اور کندھوں تک اٹھانے میں دونوں طرح کی روایات ملتی ہیں، لیکن دونوں حدیثوں میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے کانو ں کے لوؤں کو چھوئیں،اس صورت میں دونوں حدیثوں پر عمل ہو جائے گا، البتہ ہاتھو ں سے کانوں کو چھونے کو بدعت کہنا درست نہیں۔


کمافی المرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح: وعن وائل بن حجر ؓ، انہ ابصر النبیﷺ حین قام الی الصلاۃرفع یدیہ حتی کانتا بحیال منکبیہ، وحاذی ابھامیہ اذنیہ، ثم کبر روای ابو داود وفی روایۃ لہ:یرفع ابھامیہ الی شحمۃ اذنیہ اھـ وفی شرحہ:تحت (قولہوفی روایۃ لہ) :ای لا بی داود ، قال میرک : للنسائی کذا یفھم من التخریج(یرفع ابھا میہ الی شحمۃ اذنیہ) : ای شحمتیھما وھی مالان من اسفلھما،وھومذھبابی حنیفۃ، ومختار الشافعی،اھـ (ج۲؍۵۱۷)


وفی الدرالمختار (ورفع یدیہ) قبل التکبر، وقیل معہ (ما سا با بھا میہ شحمتی اذنیہ) ہوالمراد بالمحاذاۃ لانھا لا تتیقن الا بذلک، ویستقبل بکفیہ القبلہ، وقیل خدیہ (والمراۃترفع حذا منکبیھا) اھـ
وفی الشامیۃ:تھت (قو لہ ھوالمراد با لمحاذاۃ)ای الواقعۃفی کتب ظاھر الروایۃ وبعض روایات الا حٓدیث کما بسطہ فی الحلیہ ، للبرد کما قالپ الطحاوی اخذا من بعض الروایات، وتبعہ صاحب الھدایۃ وغیرہ، واعتمد ابن الھمام التو فیق بانہ عند محاذاۃ الیدین للمنکبین من الرسغ تحسصل المحاذاۃ للاذنین بالا بھا مین ، وہو صریح روایۃابی داود قال فی الحلیۃ:وھو قول الشا فعی، ومشی علیہ النوووی وقال فی شرح مسلم انہ المشھور من مذھب الجماھیر۔ اھـ (ج۱؍۴۸۲)