(+92) 0317 1118263

مصارف زکوۃ و صدقات

عباسی خاندان کو زکوۃ دینے کاحکم

عباسی خاندان کو زکوۃ دینے کاحکم فتوی نمبر: 40370

الاستفتاء

السلام علیکم! میرا نام بنت غضنفر ہے پرتگال سے، مجھے یہ پوچھنا تھا کہ ہمارے گھر پر جو کام والی آنٹی آتی تھیں وہ عباسی تھیں تو ان کو میری امی صدقہ زکوٰۃ دیتی تھیں اور وہ خود منہ سے مانگ کر لیتی تھیں، اور جہاں بھی کام کرتی تھیں ان سے بھی لیتی تھیں، جب ان کی بیٹیوں کی شادی ہوئی تو تب انہیں بہت کیا، تو اس کا کیا گناہ ہے لینے اور دینے والے پر اور وہ تو ابھی بھی سب کو بولتی ہیں مجھے دو، ؛پلیز ذرا بتائیے۔

الجواب حامدا و مصلیا

سائلہ کی امی نے اگر لاعلمی کی وجہ سے مذکور عباسی خاتون کو زکوٰۃ دی ہو تو ان کی زکوٰۃ ادا ہوچکی ہے، تاہم آئندہ احتیاط کرنی چاہئے جبکہ جو خاتون عباسی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں ان کا زکوٰۃ لینا درست نہیں، وہ اپنے اس عمل کی وجہ سے گنہگار ہورہی ہیں، انہیں اپنے اس عمل سے توبہ کرنا اور جتنے لوگوں سے زکوٰۃ لی ہیں انہیں واپس کرنا لازم ہے۔


وفی البحر الرائق: (قولہ ولو دفع بتحر فہان انہ غنی او ہاشمی او کافر او ابنہ صح ولو عبدہ او مکاتبہ لا) لحدیث البخاری لک ما نویت یا زید ولک ما اخذت یا معن حین دفعہا زید الی ولدہ معن۔ الخ (ج۲، ص۲۴۷)


وفی الدر المختار: (دفع بتحر) لمن یظنہ مصرفا (فبان انہ عبدہ او مکاتبہ او حربی ولو مستامنا اعادہ لمامر (وان بان غناہ او کونہ ذمیا اوانہ اوبوہ او ابنہ او امراتہ او ہاشمی لا) یعید لانہ اتی بما فی وسعہ، حتی لو دفع بلا تحر لم یجز ان اخطا۔ (ج۲، ص۳۵۲)


وفی الرد: فی القہستانی: عن الزاہدی: ولا یسترد منہ لو ظہر انہ عبد او حربی وفی الہاشمی روایتان ولا یسترد فی الولد والغنی وہل یطیب لہ؟ فیہ خلاف واذا لم یطب قیل یتصدق وقیل یرد علی المعطی۔ اھـ (ج۲، ص۳۵۲) واللہ اعلم بالصواب!