(+92) 0317 1118263

اولاد کے حقوق

والد کااپنی اولادکے مال میں تصرف کرنا

والد کااپنی اولادکے مال میں تصرف کرنا فتوی نمبر: 40347

الاستفتاء

مولانا صاحب میری شادی کو ایک سال ھوا تھا میری بیوی کا بیٹے کی پیدائش کے دو دن بعد انتقال ھو گیا تھا ابھی بیٹے کی عمر دو ماہ ھے میں نے اپنی مرضی سے اپنے بیٹے کو نانی کے پاس رکھا ھوا ھے پھلا سوال تو یہ ھے کہ کیا میں جب چاھے بچے کو اپنی تحویل میں لے سکتا ھوں یا اس وقت بچے کا شرعی وارث کون ھے ؟
دوسرا سوال یہ ھے کہ میری وفات کے بعد میرے بیٹے کا شرعی وارث کون ھوگا ابھی میری والدہ محترمہ حیات ھیں اور والد صاحب کا انتقال ھو گیا اور میری ساس اور سسر دونوں حیات ھیں ؟
تیسرا اور آخری سوال یہ ھے کہ کیا میں اپنے بچے کی کفالت اور پرورش کے بارے میں وصیت کر سکتا ھوں یا نھیں اور اگر کر سکتا ھوں تو کس کس رشتے کے حوالے کر سکتا ھوں ؟

الجواب حامدا و مصلیا

سائل کے پاس اس کے نابالغ بیٹے کا مال بطورِ امانت رہے گا، سائل اپنے بیٹے کی ضروریات میں اس کو خرچ کرنے کامجاز ہوگا، کسی اور کو اس مال میں تصرف کا حق نہیں سائل اگر اس مال کو کسی سرمایہ کاری میں لگانا چاہے تو اس کی گنائش ہے بشرطیکہ اس سرمایہ کاری میں بچے کا مال ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہو، ورنہ سائل اس کا ضامن ٹھہرے گا اس طرح بچے کے مال سے کوئی پلاٹ یا مکان لیکر رکھنا بھی درست ہے، جبکہ نابالغ بچے کے مال سے خود کھانا درست نہیں، الا یہ کہ سائل مفلس اور محتاج ہو تو بقدر ضرورت کھاسکتا ہے۔


وفی الدر المختار: (والولایۃ فی مال الصغیر الی الاب ثم وصیہ ثم وصی وصیہ) اذا الوصی یملک الایصال (ثم الی) الجد (الی قولہ) ولایۃ التصرف فی ترکۃ الام مع حضرۃ الاب او وصیہ او وصی وصیہ او الجد) ابی الاب (وان لم یکن واحد مما ذکرنا فلہ) ای لوصی الام (الحفظ) ولہ (بیع المنقول لا العقار) ولا یشتری الا الطعام والکسوۃ لانہما من جملۃ حفظ الصغیر خانیۃ۔ اھـ


وفی الشامیۃ: تحت (قولہ یملک الا یصاء) قال فی جامع الفصولین ولہم الولایۃ فی الاجارۃ فی النفس والمال والمنقول والعقار، فلو کان عقدہم بمثل القیمۃ او یسیر الغبن صح لا بفاحش، ولا یتوقف علی اجازتہ بعد بلوغہ لانہ عقد لا مجیز لہ حال العقد وکذا شراؤہم للیتیم بصح بیسیر الغبن ولو فاحشا بفذ علیہم لا علیہ، ولو بلغ فی مدۃ الاجزۃ، (الی قولہ) قیل انما یجوزہم الیتیم اذا کانت باجر المثل لا باقل منہ، الصحیح جوازہ ولو باقل۔ اھـ (قولہ فلہ ان یشتری الخ) ای والنفع ظاہر اشباہ۔ اھـ (ج۵، ص۵۲۸)


وفی الرد (قولہ الالحاجۃ) قال فی التاتارخانیۃ وإذا احتاج الاب الی مال ولدہ فان کانا فی المصر واحتاج لفقرہ اکل بغیر شیئ وان کانا فی المفازۃ واحتاج الیہ لانعدام الطعام معہ فلہ الاکل بالقیمۃ۔ اھـ (ج۵، ص۶۹۶)


وفی الہندیۃ: باع الاب ضیعۃ او عقار الابنہ الصغیر بثمل قیمتہ فان کان الاب محمودا او مستورا عند الناس یجوز وان کان مفسدا لا یجوز وہو الصحیح وان باع منقولا وہو مفسد فی روایۃ لا یجوز الا اذا کان خیر اللصغیر وہو الاصح۔ الخ (ج۳، ص۱۷۴) واللہ اعلم بالصواب!