(+92) 0317 1118263

مسائل قربانی

جانور بیچ کر اس کی قیمت سے قربانی کی نیت کرنا

جانور بیچ کر اس کی قیمت سے قربانی کی نیت کرنا فتوی نمبر: 40291

الاستفتاء

اسلام علیکم:سرمیں ایک عام سا کام کر تا ہوں اور شادی شدہ ہو ن والدین کے ساتھ رہتا ہوں سر میں نے بچت کر کے ایک اچھا نسل کا بکرا پالا تھا اور سو چا تھا کے سال بعد یہ خوب اچھے پیسوں میں جائے گا، تو میں آدھے پیسوں سے قربانی اورآدھے پیسے سے کاروبار کروں نگا، مگر اب میرا بکرا اتنا زیادہ محنت اور پیسے خرچہ کر نے کے بعد بھی بہت سستا سیل ہو ا، اب میں ان پیسوں سے کاروبار کر سکتاہون یا قربانی کر سکتاہوں، اب مجھے بتانامیرے لئے شریعت میں کیا حکم ہے؟ جب کے جو میری تنخواہ ہے اس سے گزر بسر کر نی بھی مشکل ہے اگر میرے والدین ساتھ نہ دیں اب مجھے یہ جاننا ہے کہ میں قربانی کرو یا کاروبار؟شکریہ

الجواب حامدا و مصلیا

سائل کے پاس اگر ضرور یات اصلیہ سے زائدبقدر نصاب کچھ موجود نہ ہو اور اس نے مذکور بکرے کی قربانی کی باقاعدہ منت بھی نہ مانی ہو ، بلکہ دل میں فقط خیال اور ارادہ کیا ہو ، تو ایسی صورت میں سائل پر ان پیسوں سے قربا نی کر نا لازم نہیں بلکہ انہیں کاروبار میں لگانے یا کسی اور کام میں لگانے کی اجازت ہے۔


وفی الدرالختار: والیسار الذی یتعلق بہ )وجوب (صدقۃالفطر) کمامر الخ وفی الشامیۃ:تحت (قولہ والیسار الخ) بان ملک مائتی درھم اوعرضا یساویھا غیر مسکنہ وثیاب الیس اومتاع یحتاج الی ان یذبح الا ضحیۃ ولولہ عقار یستغلہ فقیل تلزم لو قیمہ نصابا،الخ(ج۶؍۳۱۲)۔


وفی الدرالمختار: (والمعتبر آخر وقتھا للفقیر وضدہ والو لا دۃ الموت، فلو کان غنیا فی اول الایامفقیر فی آخرھا لا تجب علیہ، وان ولد فی الیوم الاخر تجب علیہ ، وان مات فیہ لا) تجت علیہ (ج۶؍۳۱۹)۔


وفی الھندیۃ:ایضا (ج۵؍۲۹۶)۔


وفی الدرالمختار: (وفقیر) عطف (وشراھا لھا) و
لو جو بھا علیہ حتی یمتنع علیہ بیعھا الخ وفی الشامیۃ: (قولہ شراھا لھا) فلو کانت فی ملکہ فنوی ان یضحی بھا او اشتراھا ولم ینو الا ضحیۃ وقت الشرء ثم نوی بعد ذلک لا یجب، لان النیۃ لم تقارن الشراء فلا یعتبر بائع (ج۶؍۳۲۱)