(+92) 0317 1118263

مروجہ بینکاری

کامیاب جوان پروگرام (youth loan scheme) کے تحت قرض لینا

کامیاب جوان پروگرام (youth loan scheme) کے تحت قرض لینا فتوی نمبر: 40225

الاستفتاء

سوال : گورنمنٹ نے ایک اسکیم نکالی ہے ان حالات میں جو معاشی حالات ہے اسکے لئے شرح سود 4سے 5فیصد پر قرض دے رہے ہیں 30مہینے کے لئے، تومیرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ اسلامی نقطہ نظر سے جائز ہے ان حالات میں شرح سود پر قرض لینا ٹھیک ہے تو اگر ہم اسلامی بینک سے قرض لے تو وہ جائز ہوگا یا سودی بینک سے لے تو وہ جائز ہوگا، برائے مہربانی ہماری رہنمائی فرمائی ، شکریہ۔

الجواب حامدا و مصلیا

کامیاب جوان پروگرام اسکیم کے تحت لوگوں کو جو قرضہ فراہم کیا جائے گا، وہ سودی قرضہ ہے، جس پر کم شرح سود وصول کیا جائے گا، اور سودی معاملہ کوی بھی ہو قرآن وسنت کے واضح نصوص کی روسے شرعاً ناجائز وحرام ہے، اس لئے اس طرح کی اسیکموں میں شامل ہو کر سودی قرض لے کر نوجوانوں کو اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے بجائے کسی فرد یا ادارے سے بلاسود قرض لے کر یا اسکے علاوہ مستند مفتیان کرام کے زیر نگرانی میں اپنے معاملات سرانجام دینے والے کسی اسلامی بینک سے کسی جائز متبادل طریقے کے ذریعہ اپنی معیشت وتجارت کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔


(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً) (سورة ال عمران /آیت 130) .


وفی مشکاة المصابیح: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَعَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ الرِّبَا وَمُوَكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ» . (رَوَاهُ مُسلم ج244/1)


(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه. اھ