(+92) 0317 1118263

نکاح

ویڈیوکال کے ذریعہ نکاح کاحکم

ویڈیوکال کے ذریعہ نکاح کاحکم فتوی نمبر: 40124

الاستفتاء

ویڈیو کال پر نکاح کرنا کیسا ہے؟

الجواب حامدا و مصلیا

واضح ہو کہ نکاح کے انعقاد کیلئے متعاقدین (لڑکا، لڑکی) یا ان کی طرف سے مقرر کردہ وکیلوں اور گواہوں کا ایک مجلس میں موجود ہونا لازم اور ضروری ہے، جس کی وجہ سے انٹرنیٹ پر ویڈیو کال یا ٹیلیفون وغیرہ کے ذریعہ نکاح شرعاً درست نہیں، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر سائل کے لئے بوقت نکاح حاضری ممکن نہ ہو اور وہ فوراً نکاح بھی کرنا چاہتا ہو تو اسے چاہئے کہ باقاعدہ دو گواہوں کی موجودگی میں بذریعہ فون یا خط وغیرہ اپنے والد یا بھائی وغیرہ کو عقد نکاح میں اپنی طرف سے ایجاب وقبول کرنے کیلئے وکیل بنالے، پھر جب مجلس نکاح قئام ہو تو وہ وکیل نکاح خواں کے سامنے سائل کی طرف سے ایجاب و قبول کرے، مثلاً یہ کہ میں نے اتنےحق مہر کے عوض فلانہ بنت فلاں کا اپنے بھائی کے نکاح میں قبول کیا، چنانچہ اس طرح کے ایجاب و قبول سے یہ نکاح شرعاً بھی منعقد ہوجائے گا۔


کما فی الدر المختار: ومن شرائط الایجاب والقبول اتحاد المجلس لو حاضرین، وان طال۔ اھـ (ج۳، ص۱۴)


وفی التنویر مع شرح: (و) شرط (حضور شاہدین (حرین) او حر وحرتین (مکلفین سامعین قولہما معا) الخ (ج۳، ص۳۱)


وفی الہندیۃ: ویصح التوکیل بالنکاح وان لم یحجرہ الشہود۔ الخ (ج۱، ص۲۹۳)


وفی الفقہ الاسلامی: (تحت قولہ صحۃ التوکیل بالزواج)یری الحنفیۃ انہ یصح التکویل بعقد الزوج من الرجل والمرأۃ (الی قولہ) ویصح التوکیل بالعبارۃ والکتابۃ۔ الخ (ج۷، ص۳۲۰)