(+92) 0317 1118263

علاج و دواء

19 ہفتے کی حمل کو طبی وجوہات کی بناء پر ضائع کرنا

19 ہفتے کی حمل کو طبی وجوہات کی بناء پر ضائع کرنا فتوی نمبر: 39811

سوال

میری بیوی حاملہ ہے،نیوڑل ٹیوب جو کہ چوتھے یا پانچویں ہفتہ بندہونا ہوتی ہو بندنہ ہونے کی وجہ سے کھوپڑی(سر کی ہڈی) نہیں بنی، اس وجہ سے بچہ کا دماغ کھلا ہے، اسے میڈیکل اصطلاحات میں آنیسیفلی کہتے ہیں اور اس کا کوئی علاج نہیں ہے، اس طرح پیدہ ہونے والا بچہ پیدائش کے کچھ گھنٹے زندہ رہتے ہیں، لیکن ہمیں یہ سب 19 ہفتےحمل کے بعد پتہ چلا، جب کہ بچے میں روح آچکی ہے۔ پانچ ڈاکٹرز کو دکھایا، ابھی ارجنٹ ڈلیوری کا مشورہ دیتے ہیں۔ رہنمائی فرمائیں، جزاک اللہ۔

الجواب حامدا و مصلیا

واضح ہو کہ چار ماہ بعد چونکہ روح ڈالی جاتی ہے اور وہ بھی زندہ انسان ہی ہوتا ہے، اسلئے اس مدت کے بعد بچے کی دماغی کمزوری یا کسی بھی عذر کی وجہ سے اسقاطِ حمل جائز نہیں، لہذا سائل کی بیوی چونکہ چارہ ماہ سے زیادہ کے حمل سے ہے اسلئے ڈاکٹروں کے مشورہ کے مطابق اسقاط کرنا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔