(+92) 0317 1118263

اشیاء و مصارف مسجد

کسی وجہ سے مسجد کو بیچنا،اور اسکی اشیاء کے مصرف کا حکم

کسی وجہ سے مسجد کو بیچنا،اور اسکی اشیاء کے مصرف کا حکم فتوی نمبر: 38774

سوال

السلام علیکم مسجد خود اور مسجد کو دی گئی ہر چیز وقف للہ ہے؟
مسجد کی وقف کمیٹی محلے کے مسلمانوں کے وسیع مفاد میں مسجد بھی بیچ سکتی ہے اور مسجد کی زمین بھی اور مسجد کی پرانی ناقابل استعمال اشیاء تاکہ بڑی مسجد بنائی جاسکے؟ مسجد کی پرانی اشیاء، پنکھے، موٹریں جنریٹر، گھڑیاں، الماریاں، ملبہ، سریہ، وغیرہ فروخت کرکے نئی اشیاء خریدی جاسکتی ہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسجد قیامت تک مسجد رہتی ہے، جگہ تبدیل نہیں کی جاسکتی؟ لیکن قرآن اور کسی صحیح حدیث میں اس کی دلیل نہیں ملتی؟ بس اس کے لیے واحد شرط یہی ہے کہ فروخت کردہ زمین، مسجد اور اشیاء کی رقم نئی مسجد یا دوسری مسجد کے لیے استعمال کی جائے، کیوں کہ مسجد کو چندہ دینے والے نے اللہ کے گھر کی تعمیر وتزئین کے لیے ہی چندہ دیا تھا؟ واللہ اعلم بالصواب

الجواب حامدا و مصلیا

مسجد بنانا صدقہ جاریہ کی ایک صورت ہے، اس کی جگہ وقف ہونے کے بعد وہ بندے کے حق اور ملکیت سے نکل کر خالصۃ اللہ تعالیٰ کے حق اور دائمی ملک میں چلی جاتی ہے، چنانچہ قرآن کریم میں ہے ’’وان المساجد للہ فلا تدعو‘‘ (ترجمہ) ’’بیشک مسجدیں اللہ ہی کیلئے ہیں‘‘۔

جس طرح اس میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کو پکارنا منع ہے، اسی طرح از روئے حدیث اس میں دیگر مالکانہ تصرفات، مثلاً اس کی خرید وفروخت، اس کا کسی کو ہبہ کرنا، اور اس میں واقف کے رشتہ داروں کا وارث بننا وغیرہ تمام تصرفات ممنوع ہیں، صحیحین کی روایت ہے کہ ’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریمﷺ کے عہد مبارک میں اپنا مال جو کھجور کے باغ کی صورت میں تھا اور ثمغ کے نام سے مشہور تھا صدقہ جاریہ کرنا چاہا تو عرض کیاکہ اے اللہ کے رسول مجھے مال ملا ہے جو میرے نزدیک نفیس اور عمدہ ہے، میں اسے صدقہ کرنا چاہتاہوں تو آپﷺ نے فرمایا کہ اس کے اصل کو صدقہ (وقف) کردو پھر اس کو نہ بیچا جاسکے گا نہ ہی اس میں میراث جاری ہوگی، اور نہ ہی ہبہ ہوسکے گا، البتہ اس کا پھل خرچ کیا جاسکے گا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس طریقہ سے اسے صدقہ اور وقف کردیا۔

مذکور قرآنی آیت اور صحیح حدیث سے واضح ہوا کہ مسجد اللہ کی دائمی ملک میں چلی جانے سے اس میں دوام آجاتا ہے، جو تا قیام قیامت باقی رہتاہے، لہٰذا بعض مخصوص صورتوں کے علاوہ مسجد کی جگہ تبدیل کرنا یا اس کو بیچ کر دوسری بڑی جگہ لے کر مسجد بنانا درست نہیں البتہ آلات المسجد (سامان جیسے الماریاں پنکھے،، جنریٹر وغیرہ جن کا مسجد کی تعمیر میں عمل دخل نہیں ہوتا اس کی اس مسجد کو اگر ضرورت نہ ہو تو اس کو واقف یا متولی کے علم میں لاکر کسی دوسری قریبی مسجد میں متنقل کیا جاسکتاہے، اسی طرح اس کو بیچ کر اس کی قیمت اسی مسجد کی دیگر ضروریات میں بھی صرف کی جاسکتی ہے۔

البتہ انقاضِ مسجد (سریہ، سیمنٹ، گارڈر وغیرہ) جو مسجد کی تعمیر میں استعمال کی جاتی ہیں، ان کا حکم یہ ہے کہ جب تک وہ مسجد آباد رہے، انہیں کسی دوسری مسجد میں منتقل کرنا جائز نہیں، بلکہ یا تو وہ سامان بعینہ اسی مسجد میں استعمال کیا جائے گا، یا اس کو فروخت کرکے اس کی قیمت مسجد کی دیگر ضروریات میں صرف کی جائے۔