تحریری قانونی طلاق کے بعد بیوی ایک گھر میں ،میرے گھر کے ساتھ والے کمرے میں زبر دستی رہ رہی ہیں گھر نہیں چھوڑتی، کہنے کے باوجود بھی , کیا یہ جائز ہے یاگھر چھوڑ دینا چاہئیے ؟ کیامیں اس کی عدت مکمل ہونے سے پہلے کسی دوسری عورت سے نکاح کر سکتا ہوں ۔
سائل نے یہ نہیں لکھا کہ اس نے بیوی کو کتنی طلاقیں دی ہیں ، تاہم اگر وہ تین طلاقیں دے چکا ہو یا طلاقِ بائن دے چکا ہو تو اس صورت میں دونوں میاں بیوی کا آپس میں رشتہ ختم ہو چکا ہے، عورت عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ شادی بھی کر سکتی ہے مگر عدت اپنے شوہر ( سائل ) کے گھر گزارے گی ، اس دوران بیوی کے اخراجات بھی سائل کے ذمہ لازم ہونگے ، لیکن عدت گزرنے کے بعد بیوی سائل کے گھر میں نہیں رہ سکتی، پھر زبردستی کسی اجنبی شخص کے گھر میں ایک عورت کارہائش اختیار کرناکسی طرح بھی جائز نہیں ، بصورتِ دیگر سائل قانونی چارہ جوئی کا بھی مجاز ہے، جبکہ سائل کیلئے اپنی مطلقہ بیوی کی عدت کے دوران کسی دوسری عورت(اگر وہ مطلقہ کی بہن نہ ہو یا چوتھی منکوحہ نہ بن رہی ہو) سے نکاح کر نا اگر چہ شرعاً جائز ہے ، تا ہم بہتر یہ ہے کہ سابقہ بیوی کی عدت مکمل ہونے تک انتظار کرے، تا کہ گھر کے ماحول میں بد مز گی پیدا نہ ہو۔
وفى الهندية:المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان (۵۵۷/۱).
وفي الرد : (قوله النفقة الخ) بالرفع فاعل تجب (قوله والسكنى) یلزم أن تلزم المنزل الذي يسكنان فيه قبل الطلاق قہستاني اھ (3/409)۔
وفيه ايضاً: ولا بد من سترة بينهما في البائن لئلا يختلي بالأجنبية، ومفاده أن لحائل يمنع الخلوة المحرمة وإن ضاق المنزل عليهما، أو كان الزوج فاسقا فخروجه أولى) لأن مكثہا واجب لا مكثه ومفاده وجوب الحكم به ذکره الکمال اھ (۵۳۷/۳)
وفيه ايضاً: (قوله: كحرمة تزوج أي تزوجها غيره فإنها حرمة عليہا، بخلاف تزوجه أختها، أو أربعا سواها فإنه حرمة عليه فلا يكون من العدة بل هو حكمها كما أفاده في الفتح (۵۰۴/۳)-
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0