(+92) 0317 1118263

نکاح

آئن لائن نکاح اورکورٹ میرج کا حکم

آئن لائن نکاح اورکورٹ میرج کا حکم فتوی نمبر: 37013

الاستفتاء

اگر لڑکا اور لڑکی اپنی مر ضی سے کورٹ میرج کر لیں اور بعد میں لڑکی پر دباؤڈال کر خلع لینے پر مجبور کیا جائیے ،اسکا کیا حکم ہے؟ اور آیا نکاح خواں اور گواہ ویڈیو کے ذریعے آن لائن دیکھ رہے ہوں لڑکا لڑکی کو ایجاب وقبول کرنے سے نکاح منعقد ہوگا یا نہیں؟

الجواب حامدا و مصلیا

واضح ہو کہ نکاح کے انعقاد کے لئے متعاقدین (لڑکا، لڑکی) یا ان کی طرف سے مقرر کردہ وکیلوں اور گواہوں کا ایک مجلس میں مووجود ہونا لازم اور ضروری ہے، اس لئے ویڈیو کال کے ذریعے آن لائن ایجاب و قبول کرنے سے نکاح منعقد نہ ہوگا۔
جبکہ اولیاء کی وضا مندی کے بغیر لڑ کی کا کورٹ میر ج کر لینا انتہائی نامناسب فعل ہے جو کہ عرفا خاندان کی بدنامی کا باعث بنتا ہے اور بڑوں کی سر پر ستی اور دعاؤ ں سے خالی ہو نے ہو نے کی وجہ سے عمو ما ایسا نکاح طلاق و خلع پو منتج ہو جاتا ہے اور ایا نکاح اگا غیر کفو میں ہو تو شر عا منعقد بھی نہیں ہو تا تا ہم اگر یہ نکاح کفو میں ہو شر عا منعقد ہو جا تا ہے لیکن نکاح منعقد ہو نے کے بعد بلا کسی عذر کے لڑکی کو خلع پر مجبور کرنا تو درست نہیں، البتہ اگر کوئی عذر ہو اور دونوں کیلئے نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو رو ایسی صورت میں لڑکے کو خلع یا طلاق پر رضامند کر کے کر کے اس سے خلاصی حاصل کی جاسکتی ہے۔


کما فی الدر المختار: ومن شرائط الا یجاب والقبول۔ اتحاد المجلس لوحاضرین وان طال۔ (ج۳؍۱۴)


وفیہ: (ویفتی) فی غیر الکفء (بعدم جوازہ اصلا) وہو المختار للفتوی (لفسادالزمان)۔ (ج۳؍۵۶)


وفی الھدایہ: ولاینعقد نکاح المسلمین الا بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین اور جل وامر اتین عدولا کانوا اوغیر عدول او محدودین فی القذف قالﷺ اعلم ان الشھادہ شرط فی باب النکاح لقولہ علیہ الصلوۃالسلام (لانکاحوفی الفقۃ الا سلامی: (تحت قولہ صحۃالتکیل بالزواج) یری الحنفیۃ انہ یصح التوکیل بعقد الزوج من الرجل والمراۃ(الی قولہ)ویصح التوکیل بالعبارۃ والکتابۃ الخ (ج۷؍۳۲۰)واللہ اعلم بالصواب!