(+92) 0317 1118263

کاروبار

فاریکس کا کاروبار کرنا

فاریکس کا کاروبار کرنا فتوی نمبر: 36906

سوال

کیا آن لائن ’’فارکس ٹریڈنگ‘‘ حلال ہے یا حرام؟ اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

الجواب حامدا و مصلیا

فاریکس کا کاروبار شرعا جائز نہیں ہے، کیونکہ اس کا طریقہ کار ہمارے علم کے مطابق یہ ہے، کوئی شخص براہ راست اس مارکیٹ میں خریداری کا اہل نہیں ہوتا، بلکہ وہ کسی کمپنی میں کچھ رقم مثلاً ایک ہزار ڈالر سے اپنا اکاؤنٹ کھلواکر اس کے ذریعے اس مارکیٹ میں داخل ہوتاہے، اور یہ کمپنیاں دیگر سہولیات کے علاوہ ایک بڑی رقم کی ضمانت بھی اسے فراہم کرتی ہیں، انٹرنیٹ پر مارکیٹ کے حوالے سے مختلف اشیاء کے ریٹ پر آرہے ہوتے ہیں، اور لمحہ بہ لمحہ کم زیاہ ہوتے رہتے ہیں، یہ شخص کمپنی کی طرف سے فراہم کردہ رقم سے کوئی سودا کرتاہے، اور پھر ریٹ بڑھتے ہی اسے آگے فروخت کرکے نفع کماتاہے، اور اگر قیمت گر جاتی ہے تو یہ اس کا نقصان شمار ہوتاہے، کمپنی ایک ٹریڈ مکمل ہونے پر اپنا طے شدہ کمیشن وصول کرتی ہے اور اگر مقرہ وقت پر سودا مکمل نہ ہوکے تو کمپنی اس کے بعد مزید چارجز بھی وصول کرتی ہے اور اس شخص کا کوئی چیز خرید اور فروخت کرنا سب کاغذی کاروائی ہوتی ہے، خریدی ہوئی اشیاء پر نہ قبضہ ہوتا اور نہ قبضہ کرنا مقصود ہوتاہے، بلکہ محض نفع ونقصان برابر کیا جاتاہے، اس لیے یہ سٹہ کی ایک صورت ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔
اور کمپنی کی طرف سے فراہم کردہ رقم پر کمیشن یا قرض پر سود ہے، یا کفالت کی اجرت ہے، اور یہ دونوں چیزیں شرعا ناجائز ہیں، لہٰذا اس کاروبار میں شریک ہونا اور نفع کمانا شرعا جائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے۔