(+92) 0317 1118263

طلاق

نشہ کی حالت میں دی جانے والی طلاق کا حکم

نشہ کی حالت میں دی جانے والی طلاق کا حکم فتوی نمبر: 36645

الاستفتاء

میرا سوال یہ ہے کہ چند روز قبل میرے شوہر نے انتہائی نشہ کیا ہواتھا،ہر قسم کا نشہ ،یہاں تک کہ ان کو کسی چیز کا ہوش نہیں تھا،گھر میں بہت لڑائی کی سب کو مارا، پاگل دیوانہ ہوگئے تھے،اپنے ہوش میں نہیں تھے بالکل بھی، اس وقت مجھے تین طلاقیں دیں جب کہ میں نے سنا نہیں اور ان کو اسی وقت نشہ کے اسپتال میں ڈلوایا گیا، وہاں ڈاکٹر کہتے ہیں ان کو کچھ بھی یاد نہیں جو انہوں نے کیا، جو بولا، کیونکہ یہ نشہ میں اتنا ڈوبے تھے کہ بالکل پاگل کے اسٹیج پہ تھے، تو برائے مہربانی آپ مجھے فتویٰ دیں کہ مجھے طلاق ہوئی یا نہیں؟ میں بہت پریشان ہوں میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔

الجواب حامدا و مصلیا

سائلہ نے یہ نہیں لکھا کہ الفاظِ طلاق کیا تھے تاہم اگر میں تمہیں طلاق دیتا ہوں وغیرہ جیسے صریح الفاظ کےساتھ سائلہ کے شوہر نے اسے طلاق دی ہو تو واضح ہو کہ غیر شرعی نشہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہٰذا سائلہ کو تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جب کہ سائلہ ایامِ عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔