(+92) 0317 1118263

چندہ

مدرسہ کی رقم کے ذریعہ بینک کے ساتھ کاروبارکرنا

مدرسہ کی رقم کے ذریعہ بینک کے ساتھ کاروبارکرنا فتوی نمبر: 35705

الاستفتاء

كیا مدرسہ كی زكوٰۃ كی رقم كو كسی شریعہ بینك میں جمع كرایا جاسكتا ہے؟ جو اس رقم كوكاروبار میں لگائے اور نفع و نقصان میں دونوں شریك ہوں تو كیا ایسا كرنا درست ہے؟

الجواب حامدا و مصلیا

مدرسه میں چندہ دینے والوں کا اصل مقصد چونکہ اس چندہ کو اس کے مصرف تک پہنچانا ہے لہذا اس چندہ کی رقم کو تجارت میں لگانا جائز نہیں ہے اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس طرح کرنے سے چندہ کی رقم مصرف تک پہنچانے میں بلاوجہ تاخیر ہوگی، البتہ اگر چندہ کی رقم مدرسہ کے فنڈ سے واقعۃً زائد ہو اور فی الحال اس کی کوئی ضرورت بھی نہ وہ تو پھر چند شرائط کے ساتھ اس زائد رقم کو تجارت میں لگانا جائز ہے، وہ چند شرائط درجِ ذیل ہیں:
(۱) چندہ دینے والوں کی طرف سے مدرسہ کے متولی کو اس کی اجازت ہو۔
(۲) مدرسہ کی انتظامیہ کمیٹی کی طرف سے بھی اس کی اجازت ہو، اگر کمیٹی نہ ہو تو اس کیلئے الگ سے کوئی کمیٹی تشکیل دے کر اس کی منظوری لی گئی ہو۔
(۳) جو رقم مدرسہ یا طلباء کے اخراجات کی ہو، اسے مدرسے میں خرچ کیا جائے، ایسی رقم کاروبار میں لگانا جائز ہی نہیں۔
(۴) زائد رقم کاروبار میں لگانا مدرسے کے مفاد میں ہو، یعنی اصل مقصد مدرسہ کے مال میں اضافہ ہو یا مدرسہ کی رقم ضائع ہونے سے محفوظ رکھنا ہو کسی ذاتی مقصد کیلئے نہ ہو۔
(۵) جو زائد رقم تجارت میں لگائی جائے اس کا نفع مدرسہ کی ضرورت اور مصالح ہی میں خرچ کیا جاتا ہو۔
(۶) زائد رقم ایسے کاروبار میں لگائی جائے جس میں نفع کا تقریباً یقین ہو۔
(۷) رقم اتنی مدت تک تجارت میں نہ لگائی جائے جس سے نقصان کا اندیشہ ہوتا ہو۔
مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ مدرسہ کے فنڈ کو تجارت میں لگانا جائز ہے، تاہم یہ بات واضح رہے کہ جب تک زکوٰۃ و صدقاتِ واجبہ کی رقم کی شرعی تملیک نہ ہوجائے اس وقت تک ان کو تجارت میں لگانا جائز نہیں ہوگا اور اس طرح زکوٰۃ بھی ادا نہیں ہوگی۔


کما فی تفسیر القرطبی: العاشرۃ – قولہ تعالٰی: ﴿ولا تقربوا مال الیتیم إلا بالّتی ہی أحسن﴾ أی بما فیہ صلاحہ وتثمیرہ وذلک بحفظ أصولہ وتثمیر فروعہ وہذا أحسن الأقوال فی ہذا فإنہ جامع، قال مجاہد: ﴿ولا تقربوا مال الیتیم إلا بالتی ہی أحسن﴾ بالتجارۃ فیہ ولا تشتری ولا تستقرض الخ (ج۷، ص۱۲۰)۔


وفی درر الحکام فی شرح مجلۃ الأحکام: لا یجوز لأحد أن یتصرّف فی ملک الغیر بلا إذنہ، ہذہ المادۃ مأخوذۃ من المسألۃ الفقہیّۃ (لا یجوز لأحد التصرف فی مال غیرہ بلا إذنہ ولا ولایتہ) الخ (ج۱، ص۹۶)۔


وفی الفتاویٰ الہندیۃ: وسئل الخجندی عن قیم المسجد یبیح فناء المسجد لیتجر القوم ہل لہ ہذہ الإباحۃ؟ فقال: إذا کان فیہ مصلحۃ للمسجد فلا بأس بہ إن شاء اللہ تعالٰی، قیل لہ: لو وضع فی الفناء (سُررًا فَآجرہا الناس لِیتجیروا علیہا وأباح لہم فناء) ذلک المسجد ہل لہ ذلک فقال: لو کان لصلاح المسجد فلا بأس بہ إذا لم یکن مَمرًّا للعامۃ۔ الخ (ج۵، ص۳۲۰)۔


وفی البحر الرائق: ولو کانت الأرض متصلۃ ببیوت المصر یرغب الناس في استئجار بیوتہا وتکون غلۃ ذلک فوق غلۃ الزرع والنخل کان للقیم أن یبني فیہا بیوتًا فیؤ اجرہا لأن الاستغلال بہذ الوجہ یکون أنفع للفقراء۔ الخ (ج۵، ص۲۳۳)۔


وفي الفتاویٰ الہندیۃ: متولي المسجد إذا اشتریٰ بمال المسجد حانوتًا أو دارًا ثم باعہا جاز إذا کانت لہ ولایۃ الشراء، ہذہٖ المسئلۃ بناء علٰی مسئلۃ أخریٰ إن متولی المسجد إذا اشتری من غلۃ المسجد دارا أو حانوتا فہذہٖ الدار وہذا الحانوت ہل تلتحق بالحوانیت الموقوفۃ علٰی المسجد؟ ومعناہ أنہ ہل تصیر وقفًا؟ اختلف المشایخ قال الصدر الشہید: المختار أنہ لا تلتحق ولکن تصیر مستغلا للمسجد کذا في المضمرات۔ الخ (ج۲، ص۴۱۷)۔ واللہ اعلم