(+92) 0317 1118263

امامت و جماعت

مقتدی کے لئے سورۃ فاتحہ پڑھنے کا

مقتدی کے لئے سورۃ فاتحہ پڑھنے کا فتوی نمبر: 34575

الاستفتاء

السلام علیکم! میرے تین سوال ہیں نما زکے بارے میں :
(۱) جب ہم ظہر اور مغرب کی نماز امام کے پیچھے پڑھ رہے ہوں تو ہمیں صرف امام کی قرأت کو سننا چاہیے یا ہمیں بھی ساری رکعتوں میں سورۂ فاتحہ پڑھنی چاہیے؟ یا صرف تیسری اور چوتھی رکعات میں ؟
(۲) سنت مؤکدہ میں ہمیں سورۂ فاتحہ کے ساتھ اور کوئی سورہ بھی پڑھنی چاہیے تیسری اور چوتھی رکعات میں؟
(۳) اگر کسی کو پیشاب کے قطرے کا مسئلہ ہو مثال کے طور پر استنجاء اور وضو کے بعد مسجد جاتے وقت یا نماز کے دوران پیشاب کے قطرے آتے ہوں تو اسے اس حالت میں دوبارہ وضو کرنا ہوگا یا نہیں؟ یہ مسئلہ مستقل ہےا ور لا علاج ہے۔

الجواب حامدا و مصلیا

احادیثِ صحیحہ کی روشنی میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے مقتدی کیلئے حکم یہ ہے کہ امام کے پیچھے نہ سورۂ فاتحہ پڑھے اور نہ ہی کوئی اور سورۃ، خواہ امام آہستہ قرات کررہا ہو یا بلند آواز سے۔


کما فی الدر المختار: (فإن قرأ کرہ تحریما) وتصح فی الأصح، وفی درر البحار عن مبسوط خواہر زادہ أنہا تفسد ویکون فاسقا، وہو مروی عن عدۃ من الصحابۃ فالمنع أحوط (بل یستمع) إذا جہر (وینصت) إذا أسر ’’لقول أبی ہریرۃ ؓ کنا نقرأ خلف الإمام فنزل: ﴿واذا قریٔ القرآن فاستمعوا لہ وأنصتوا﴾۔ الخ (ج۱، ص۵۴۴)

سنن مؤکدہ ہوں یا غیرمؤکدہ ان کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے ساتھ کوئی اور سورہ ملانا واجب ہے۔

کما فی رد المحتار: تحت (قولہ ومنہا القرأۃ) أی قراءۃ آیۃ من القرآن وہی فرض عملی فی جمیع رکعات النفل والوتر وفی رکعتین من الفرض کما سیأتی متنا فی باب الوتر والنوافل، وأما تعیین القراءۃ فی الأولیین من الفرض فہو واجب، وقیل سنۃ لا فرض کما سنحققہ فی الواجبات، وأما قراءۃ الفاتحۃ والسورۃ أو ثلاث آیات فہی واجبۃ أیضا کما سیأتی۔ الخ (ج۱، ص۴۴۶)

اگر کسی شخص کو پیشاب کے قطرے آتے ہیں اور اس کو اتنا وقت بھی نہ ملے کہ وقت کی فرض وواجب نماز طہارت کے ساتھ پڑھ سکے تو یہ شخص معذور سمجھا جائے گا اور معذور کا حکم یہ ہے کہ ہر نماز کے وقت وضو کرکے نماز ادا کیا کرے اور اس دوران پیشاب کے قطروں کی وجہ سے دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں، اور اگر وہ شرعاً معذور نہیں ہو تو جب بھی پیشاب کے قطرے خارج ہوجائیں تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا، دوبارہ نیا وضو کرنا ضروری ہوگا، اس کے بغیر نماز نہ ہوگی۔

کما فی الفتاویٰ الہندیۃ: المستحاضۃ ومن بہ سلس البول أو استطلاق البطن أو انفلات الریح أو رعاف دائم أو جرح لا یرقأ یتوضئون لوقت کل صلاۃ ویصلون بذلک الوضوء فی الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل ہکذا فی البحر الرائق۔ الخ (ج۱، ص۴۱) واللہ اعلم