(+92) 0317 1118263

شوبز

مروجہ قوالی کا شرعی حکم

مروجہ قوالی کا شرعی حکم فتوی نمبر: 34374

الاستفتاء

قوالی کے بارے میں علماء کی کیا رائے ہے؟ مشہور ہے کہ خواجہ نظام الدین اولیاء کے مرید امیر خسرو نے طبلے سارنگی اور قوالی کی بنیاد رکھی، اور خواجہ نے منع نہیں کیا، نیز مجدد الف ثانی نے فرمایا کہ نہ میں یہ کام کرتا ہوں نہ اس سے منع کرتا ہوں، وضاحت فرمائیے، اس موضوع پر کتب بھی تجویز فرمادیں۔ جزاک اللہ

الجواب حامدا و مصلیا

واضح ہو کہ مروّجہ قوالی (جس میں ساز، طبلہ اور سارنگی وغیرہ بجائے جاتے ہیں) کا پڑھنا سننا اور ایسی محفلوں میں شریک ہونا سب ناجائز اور حرام ہے، نیز اس قسم کی قوالی کے جواز کو مجدد الف ثانیؒ اور دیگر صوفیائے کرام وعلماء عظام کی طرف منسوب کرنا قطعاً بے بنیاد اور غلط ہے، حالانکہ انہوں نے قوالی کے سننے کے جواز کو جن شرائط کے ساتھ مقید کیا تھا (مثلاً:صاحبِ سماع خواہشِ نفس سے پاک اور تقویٰ و اخلاص سے مزین ہو اور سماع کرنے والوں میں کوئی بے ریش نہ ہو، سب عارفین کاملین ہوں، اُن میں کوئی فاسق وفاجر طالبِ دنیا اور عورت نہ ہو، نیز قوال کی نیت اخلاص پر مبنی ہو، مزدور و معاوضہ مدِّ نظر نہ ہو، نیز ریا وتصنع کے طور پر وجد و مستی کا اظہار نہ کریں) اور جس قوالی کے سننے کی اجازت دی تھی وہ باتیں موجودہ قوالی میں بالکل مفقود ہونے کی بناء پر دونوں کا حکم یکسر مختلف ہے، لہٰذا اس قسم کی لغویات کو مشائخِ دین اور صوفیائے کرام کی طرف منسوب کرکے سندِ جواز بنانا قطعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔


فی الدر المختار: وفی السراج ودلت المسألۃ أن الملاہی کلہا حرام ویدخل علیہم بلا إذنہم لإنکار المنکر قال ابن مسعود صوت اللہو والغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء النبات الخ۔


وفی رد المحتار تحت (قولہ قال ابن مسعود الخ) رواہ فی السنن مرفوعا (الی قولہ) وإن کان سماع غناء فہو حرام بإجماع العلماء ومن أباحہ من الصوفیۃ، فلمن تخلی عن اللہو، وتحلی بالتقوی، واحتاج إلی ذلک احتیاج المریض إلی الدواء۔ ولہ شرائط ستۃ: أن لا یکون فیہم أمرد، وأن تکون جماعتہم من جنسہم۔ الخ (ج۶، ص۳۴۹)


وفی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ: سئل العلامۃ الجدّ عبد الرحمٰن افندی العمادی عن السماع بما صورتہ فیما اذا سمع من الآلات المطربۃ کالیراع وغیرہ وما لذلک شبیہ (الی قولہ) فأجاب المولی المذکور علیہ رحمۃ الرحیم الغفور: قد حرمہ من لا یعترض علیہ لصدق مقالہ، وأباحہ من لا ینکر علیہ لقوّۃ حالہ، فمن وجد فی قلبہ شیئا من نور المعرفۃ فلیتقدم والا فرجوعہ عما نہاہ الشرع الشریف عنہ أحکم وأسلم (ٳلی قولہ) قلت: والحق الذی ہو أحق أن یتبع وأحری أن یدان بہ ویسمع أن ذلک کلہ من سیئات البدع حیث لم ینقل فعلہ عن السلف الصالحین ولم یقل بحلہ أحد من أئمۃ الدین المجتہدین ۔ رضی اللہ عنہم ۔ أجمعین قال الأستاذ السہروردی فی عوارف المعارف (الی قولہ) وہل استحضروا قوالا وقعدوا مجتمعین لاستماعہ۔ الخ (ج۲، ص۳۵۵) واللہ اعلم