(+92) 0317 1118263

عشر و خراج

زمینی پیداوارپر عشراورنصف عشرکی تفصیل

زمینی پیداوارپر عشراورنصف عشرکی تفصیل فتوی نمبر: 34267

الاستفتاء

میرے والد صاحب کی کئی ایکڑ زمینیں ہیں، جس پر مختلف چیزوں کی کاشت ہوتی ہے میں مدرسہ میں پڑھتا ہوں والد صاحب کو میں نے یہ مسئلہ بتایا کہ زمین کی پیداوار پر عشر آتا ہے تو انہوں نے تفصیل جاننا چاہی وہ مجھے معلوم نہ تھی اس لئے آپ کو زحمت دے رہا ہوں، آپ بتادیں کہ کن صورتوں میں عشر ہوتا ہے اور کن میں نصف عشر ہوتا ہے؟

الجواب حامدا و مصلیا

بارانی زمین اور جس زمین کو نہروں کے ذریعے سیراب کیا جائے ان میں عشر واجب ہوتا ہے جبکہ جن زمینوں کو کنویں یا ایسے تالاب ٹیوب ویل وغیرہ کے ذریعے سیراب کیا جاتا ہے جن میں خرچ آتا ہو تو ان میں نصف عشر واجب ہے اور اگر کسی زمین کی آبپاشی دونوں طرح سے ہوتی ہو تو اس میں غالب کا اعتبار ہوگا،ا ور جس زمین کو پانی خرید کر سیراب کیا جاتا ہو اس میں بھی نصف عشر واجب ہوتا ہے۔


کما فی التنویر مع الدر: (و) تجب فی (مسقی سماء) أی مطر (وسیح) کنہر (بلا شرط نصاب) راجع لکل (و) بلا شرط (بقاء) وحولان حول (إلی قولہ) (و) یجب (نصفہ فی مسقی غرب) أی دلو کبیر (ودالیۃ) أی دولاب لکثرۃ المؤنۃ۔ الخ (ج۲، ص۳۲۶)


وفی الفتاوی الہندیۃ: وما سقی بالدولاب والدالیۃ ففیہ نصف العشر وان سقی سیحا وبدالیۃ یعتبر أکثر السنۃ، فان استویا یجب نصف العشر۔ الخ (ج۱، ص۱۸۶) واللہ اعلم