(+92) 0317 1118263

متفرقات شعائر اسلام

کیا عام مسلمان کے لئے بائبل کا مطالعہ کرنا جائز ہے؟

کیا عام مسلمان کے لئے بائبل کا مطالعہ کرنا جائز ہے؟ فتوی نمبر: 33906

الاستفتاء

السلام علیکم! میں الحمدللہ مسلمان ہوں میرے ساتھ یہاں ایک کرسچن(عیسائی) کام کرتا ہے، میری اس کے ساتھ مذہب پر بہت دفعہ بحث ہوتی ہے میں نے اس کو سمجھانے کیلئے بائیبل پڑھی تھی، کیا اسلام میں کوئی گنجائش ہے دوسری آسمانی کتابوں کے پڑھنے کی؟ اگر میں آگے پڑھوں تو کوئی گناہ تو نہیں؟ جواب دے کر مشکور ہو۔

الجواب حامدا و مصلیا

کرسچن (عیسائی)وغیرہ کو جواب دینے کیلئے بائیبل کا مطالعہ کرنا تو درست ہے، مگر سائل کو اسلام کے احکام پر عبور حاصل نہ ہو تو خود سے بائیبل کا مطالعہ نہ کرے بلکہ کسی مستند عالم دین سے رجوع کرکے اس سے جواب معلوم کرے ورنہ خود اپنے مذہب کے متعلق تشویش میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔


في مشکاۃ المصابیح: وعن جابر أن عمر بن الخطاب ـ رضي الله عنه ـ أتی رسول اللہ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بنسخۃ من التوراۃ، فقال: یا رسول اللہ ہذہ نسخۃ من التوراۃ، فسکت، فجعل یقرأ ووجہ رسول اللہ یتغیر (إلی قولہ) فقال أعوذ باللہ من غضب اللہ وغضب رسولہ ـ صلى الله عليه وسلم۔ الخ (ج۱، ص۳۲)


وفي الفتاوي الشامیۃ: تحت (قولہ ویکرہ لہ الخ) (الی قولہ) واختارہ سیدي عبد الغني ما في الخلاصۃ وأطال في تقریرہ ثم قال: وقد نہینا عن النظر فی شیءٍ منہا سواء نقلہا الینا الکفار أو من أسلم منہم۔ (ج۱، ص۱۷۵) واللہ اعلم بالصواب