(+92) 0317 1118263

مباحات

غیرمسلم کی موجودگی میں تلاوت قرآن سننا

غیرمسلم کی موجودگی میں تلاوت قرآن سننا فتوی نمبر: 33578

الاستفتاء

میں یہاں قطر میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں اور میرے ساتھ ۴؍ ہندو بھی کام کرتے ہیں، صبح سویرے جب ہم جاتے ہیں کام پر توگاڑی میں مَیں تلاوت کلام پاک لگاتا ہوں یا علماء کرام کی تقاریر، اور وہ لوگ بھی خاموشی سے سنتے ہیں کبھی کبھار ایک لڑکا میوزک سنتا ہے ہیڈفون لگاکر، واپسی پر کبھی کبھار میں بھی ان کے ساتھ میوزک سنتا ہوں، کیا یہ جائز ہے؟

الجواب حامدا و مصلیا

گاڑی میں تلاوتِ کلامِ پاک یا علماء کرام کی تقاریر سننا جائز ہے اگرچہ غیر مسلم بھی ساتھ سُن رہے ہوں، جبکہ کسی مسلمان کیلئے میوزک اور گانے سننا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، لہٰذا سائل کو میوزک اور گانے سننے سے احتراز لازم ہے۔


فی الدر المختار: ولا بأس بتعلیمہ القرآن والفقہ عسی یہتدی۔ الخ (ج۱، ص۱۷۷)


و فیہ ٲیضًا: قال ابن مسعود صوت اللہو والغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء النبات (الی قولہ) استماع صوت الملاہی کضرب قصب ونحوہ حرام، لقولہ ـ علیہ الصلوٰۃ والسلام ـ استماع الملاہی معصیۃ، والجلوس علیہا فسق، والتلذذ بہا کفر الخ وفي رد المحتار: تحت (قولہ قال ابن مسعود الخ) رواہ فی السنن (إلی قولہ) وفی التاتارخانیۃ عن العیون إن کان السماع سماع القرآن والموعظۃ یجوز، وإن کان سماع غناء فہو حرام بإجماع العلماء۔ الخ (ج۶، ص۳۴۹) واللہ اعلم