(+92) 0317 1118263

احکام رمضان

غیر مسلم سےچندہ کرکے افطارپارٹی کا اہتمام کرنا

غیر مسلم سےچندہ کرکے افطارپارٹی کا اہتمام کرنا فتوی نمبر: 33292

الاستفتاء

سوال ۔رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں افطار پارٹی (iftar party)کے نام سے دعوتیں ہوتی ہیں جس میں سیاست دان اور غیر مسلم بھی چندہ دیتے ہیں ؟کیا ایسی افطار پارٹیوں میں شرکت کر سکتے ہیں؟ اور انافطار پارٹیوں کا مساجد سے اعلان کرنا کیسا ہے ؟

الجواب حامدا و مصلیا

بغیر کسی رسم و رواج کی پابندی کے کسی کو دعوت افطار پر بلانا درست ہے بلکہ باعث ثواب بھی ہے مگر اس کو سیاسی رنگ دینا اور اس کے لئے مسلم اور غیر مسلم سب سے چندہ کر نا اور اس رسم کو دیگر خرافات کے ساتھ جوڑ کر ادا کرنے کو لازم سمجھنا درست نہیں ایسی افطار پارٹیوں میں شریک ہونا اور چندہ دینا درست نہیں جس سے اجتناب لازم ہے جبکہ اس طرح کی دعوتوں اور پرو گراموں کے لئے مساجد میں اعلان کرنا بھی درست نہیں۔


فی الھندیہ: ولو دعی الی دعوہ فالو اجب أن یجبہ الی ذلک وانما یجب علیہ أن یجیبہ اذالم یکن ھناک معصیہ ولا بدعہ وان لم یجبہ کان عاصیا والامتناعا أسلم فی زماننا الا اذاعلم یقینابأ نہ لیس فیھا بدعہ ولا معصیہ۔ الخ (ج۵ص۳۴۳)
وفیہ: آکل الرباء وکاسب الحرام أھدی الیہ أو أضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل ولا یأکل مالم یخبرہ أن ذلک المال أصلہ حلال الخ (ج۵ص۳۴۳)
وفیہ: ولا بأس بالذھاب الی ضیافہ أھل الذمہ ھکذاذکر محمد ؒ ۔ الخ (ج۵ص۷۴۳)
وفی المشکوہ: عن ابی ھریرہ قال قال رسول اللہ ﷺ من سمع رجلا ینشد ضالہ المسجد فلیقل لاردہا اللہ علیک فان المساجد لم تبن لہذا۔ الخ (ج۱ص۶۸)