(+92) 0317 1118263

وضو

پیشاب کے تقاضے کے باوجود وضو کرکے نماز اداکرنا

پیشاب کے تقاضے کے باوجود وضو کرکے نماز اداکرنا فتوی نمبر: 31762

الاستفتاء

پیشاب کے بعد مجھے پیشاب کے قطرے آتے ہیں ۲۰ منٹ تک، اکثر فجر میں ۱۰ منٹ پہلے اُٹھ پاتا ہوں تو پیشاب روک کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھوں یا پیشاب سے فارغ ہوکر نماز قضاء کرکے پڑھوں؟ کبھی کبھی یہ مسئلہ باقی نمازوں میں بھی پیش آجاتا ہے۔

الجواب حامدا و مصلیا

اگر پیشاب کا تقاضہ شدید نہ ہو تو سائل کو چاہئے کہ پیشاب کرنے سے پہلے وضوء کرکے نماز پڑھے تاہم اگر پیشاب کا تقاضہ ایسا شدید ہو کہ نماز پڑھنا مشکل ہو تو تب بھی سائل وضو کرکے نماز شروع کرے اس دوران اگر قطرہ نکل جائے تو پیشاب و وضو کرکے نماز ادا کرے ، اب اگر وقت نکل جائے تو مکروہ وقت گزرنے کے بعد قضا کرلے۔


کما فی ردّ المحتار: تحت (قولہ وصلاتہ مع مدافعۃ الاخبثین) أی البول والغائط قال فی الخزائن سواء کان بعد شروعہ أو قبلہ فإن شغلہ قطعہا إن لم یخف فوت الوقت (الی قولہ) وبقی ما إذا خشی فوت الجماعۃ ولا یجد جماعۃ غیرہا فہل یقطعہا کما یقطعہا اذا رأی علی ثوبہ نجاسۃ قدر الدرہم لغسلہا أو لا (الی قولہ) والصواب الأول الخ (ج۱، ص۶۴۱)۔


وفی الہندیۃ: ویکرہ التمطی وتغمیض عینہ وأن یدخل فی الصلاۃ وہو یدافع الأخبثین (الی قولہ) ولو ضاق الوقت بحیث لو اشتغل بالوضوء یفوت یصلی لأن الأداء مع الکراہۃ أولی من القضاء (ج۱، ص۱۰۷)۔


وفی البحر الرائق: ومنہا أن یدخل فی الصلاۃ وقد أخذہ غائط أو بول وإن کان الإہتمام یشغلہ یقطعہا وإن مضی علیہا أجزأہ وقد اساء (الی قولہ) حتی لو ضاق الوقت بحیث لو اشتغل بالوضوء یفوتہ یصلی لأن الاداء مع الکراہیۃ أولی من القضاء (ج۲، ص۳۳)۔ واللہ اعلم