(+92) 0317 1118263

قرآن و حدیث کے آداب و احکام

عورت کیلئے ناپاکی میں قرآن مجید کو چھونا اور اس کی تلاوت کرنا

عورت کیلئے ناپاکی میں قرآن مجید کو چھونا اور اس کی تلاوت کرنا فتوی نمبر: 31698

الاستفتاء

کیا فر ماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں
ایک دینی ادارے کو بالغہ بچیوں کو حفظ قر آن پڑھانے کے حوا لے سے مندر جہ ذیل مسائل درپیش ہیں
(۱) ایام خاص میں کلاس نہ پڑھنے کی وجہ سے منزلیں بھول جاتی ہے ۔
(۲) اسکول سے مسلسل غیر حاضری کی وجہ سے چھٹیوں کی عادت بنتی ہے ۔
(۳) شرعی مسائل سے لا علمی کی وجہ سے دس دن سے بھی زیادہ چھٹیاں ہوتی ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ادارہ یہ کر سکتا ہے کہ ایام خاص میں بچیاں ایک الگ کپڑے سے قرآن مجید کو پکڑیں اور پینسل سے اوراق پلٹیں اور سماعت ، زبان ہلائے بغیر قرآن مجید میں توجہ دیں یا آ یات مبارکہ کو توڑ کے ساتھ پڑھیں؟برائے مہربانی شر عی نقطہ نظر سے رہنمائی فرمائیں، نوازش ہوگی۔

الجواب حامدا و مصلیا

عورت کیلئے حالت حیض میں قرآن مجید کو چھونا اور اس کی تلاوت کرنا جائز نہیں البتہ اگر طالبات کیلئے قرآن مجید یاد کرنے میں دشواری ہو یا یاد کیا ہوا قرآن مجید بھول جانے کا اندیشہ ہو تو ان کیلئے قرآن کے الفاظ روانگی سے پڑھنے کے بجائے رک،رک کے پڑھتی رہیں یا قرآن مجید کو ایک الگ کپڑے سے پکڑ کر کسی پاک صاف آلہ کے ذریعے اوراق پلٹتی رہیں اور زبان ہلائے بغیر دل دل میں پڑتی رہیں تو ان دونوں صورتوں کی اجازت ہے ۔


کما فی الھندیہ(ومنھا)حرمہ مس الصحف لا یجوز لھماوللجنب والمحدث مس المصحف الابغلاف متجاف عنہ کالخریطہ والجلد الغیر المشرز لابما ھومتصل بہ ھوالصحیح ھکذا فی الھدایۃ وعلیہ الفتوی۔ (ح۱ص۳۹)


وفیھا:ولایکرہ للجنب والحائض والنفساء النظر فی المصحف ھکذا فی الجو ھد النیرۃ۔ الخ (ج ۱ ص۳۹)


وفی الدر المختار (و) يحرم (به) أي بالأكبر (وبالأصغر) مس مصحف: أي ما فيه آية كدرهم وجدار، وهل مس نحو التوراة كذلك؟ ظاهر كلامهم لا (إلا بغلاف متجاف) غير مشرز أو بصرة به يفتى، وحل قلبه بعود. (ج۱ص۱۷۳)


وفی الشا میۃ :تحت (قولہ وحل قلبہ بعود)ای تقلیب أوراق المصحف بعود ونحوہ لعدم صدق المس علیہ۔ (ج۱ص۱۷۴)


وفی الھدایۃ: وقال الکر خی ار نی الجھران یسمع نفسہ وادنی تصحیح الحروف لان القراء ۃ فعل اللسان۔ الخ (ج۱ص۱۱۷) واللہ اعلم!