(+92) 0317 1118263

احرام کے مسائل

کورونا میں دوران احرام سینیٹائزر استعمال کرنا

کورونا میں دوران احرام سینیٹائزر استعمال کرنا فتوی نمبر: 30837

الاستفتاء

میں گزشتہ سال عمرہ کے لئے احراباندھ کر نیت کر کے جہاز میں سفر شروع کیا اور جب جدہ ایئر پوٹ پر اترا تو امیگریشن (چیکنگ) کے مراحل فے گزرنا ہو جس میں امیگریشن آفس نے فنگر پر نٹ صحیح اسکین نہ ہو نے پر میری ہاتھوں پر سنینٹائزر ڈال دی اور اس عمل کو مکمل کر دیا جس کے بعد مجھے احساس ہو اکہ اسمیں خوشبو ہے اور مجھے جس سے ہاتھوں میں مہک آنے لگی کیا مجھے پے دم واجب ہے؟ اور اسکا کیا طریقہ ہونا چاہئے۔

الجواب حامدا و مصلیا

فنگر پرنٹ صحیح اسکین نہ ہو نے کے وجہ سے امیگریشن والوں کا سائل کے ہاتھوں پر سینیٹائزر ڈالنے کے وجہ سے سائل پر کوئی دم لازم نہیں آیا اس کئے بلا وجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔


وفی غینۃ الناسک: فان طیب عضوا کبیرا کاملا من اعضائہ فما زاد کالراس والوجہ واللحیۃ والفم والساق والفخذ والعضد والید والکف ونحو ذلک فعلیہ دم وان غسلہ من ساعتہ وفی اقلہ ولوا کثرہ صدقۃ کذا فی المتون وفی حکم اقلہ العضو الصغیر کالا نف والا ذن والعین والا صبع والشارب ثم ھذا اذاکان الطیب قلیلا لان العبرۃ حینئذ بالعضولا باطیب فان کثیرا فی اقلہ الخ (۱۳۰)۔
وفی الھندیۃ: فیما یجب بالطیب والتدھن الطیب کل شیء لہ رائحۃ مستلذۃ ویعدہ العقلاء طیباکذا فی السراج الوھاج قا ل أصحا بنا الأ شیاء التی تستعمل فی البدن علی ثلاثۃ أنواع نوع ہو طیب محض معد للتطیب بہ کا لمسک والکا فور ولعنبر وغیر سلک تھب بہ الکفارۃ علی أی وھہ استعمل حتیقالوا الوادی عینہ بطیب طجب علیہ الکفارۃونوع لیس بطیب بنفسہ ولا فیہ معنی الطیب ولا یصیر طیبا بوجہ ما کالشحم فسواء أکل أودھن أو جعل فی شقاق الرجل لا تجب الکفارۃ ونوع لیس بطیب بنفسہ ولکنہ أصل للطیب یستعمل علی وجہ التطیب ویستعمل علی وجہ الدواء کالزیت والشیرج ویعتبر فیہ الا ستعمال فان استعمل استعمال الأ دھانفی البدن یعطی لہ حکم الطیب وان استعمل فی ما کول أو شقاق رجل لا یعطی لہ حکم الطیب کذا فی البدائع ولا فرق فی المنع بین بدنہ وازارہ وفراشہ کذا فی فتح القدیر فاذا استعمل الطیب فان کان کثیرا فاحشا ففیہ الدم وان کان قلیلا ففیہ الصدقۃ کذا فی المحیط واختلف المشایخ فی الحد الفاصل بین القلیل والکثیر فبعض مشایخنا اععتبرواالکثرۃ بالعضو ا کبیر نحو الفخذ والساق وبعضہم اعتبروا الکثرۃ بربع العضو الکبیر الخ (ج۱؍۲۴۰)
وفی غنیۃ الناسک:الاول القدر وھوایکون نصف صاع من برا ودقیقہ اوسویقہ اوصاعامن شعیر اودقیقہ اوسو یقہ اوتمر اوزبیب فلا یجوز اول منہ ولا اکثر فان تصدق بہ فالکل فی الاولی الخ (ج؍۱۴۱) واللہ اعلم باالصواب!