(+92) 0317 1118263

والدین کے حقوق

والدین کا ذاتی رنجش کی وجہ سے اولاد کو رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے کا حکم

والدین کا ذاتی رنجش کی وجہ سے اولاد کو رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے کا حکم فتوی نمبر: 29042

الاستفتاء

(۱) کیا والدین دوسرے خونی رشتہ داروں اور عزیز و اقارب سے اپنے جھگڑے اور لڑائیوں کی بنیاد پر اپنی اولاد کو اس بات کا پابند کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ ان رشتہ داروں سے اولاد بھی قطع تعلق ضرور کرے؟

(۲) کیا والدین اپنی بالغ اولاد کی نجی زندگی میں اپنی ذاتی پسند ناپسند منوانے کا حق رکھتے ہیں؟ جبکہ اس معاملے سے والدین کے ساتھ سلوک اور ان کی ضروریات وغیرہ کسی طرح متاثر نہ ہوتی ہوں؟

(۳) والدین کے حقوق پر ہر جگہ بات ہوتی ہے پر خدارا یہ وقت ایسا چل رہا ہے کہ اس دور میں بالغ اولاد کے حقوق (تعلیم و تربیت کے علاوہ) پر بات کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔

الجواب حامدا و مصلیا

واضح ہو کہ اولاد پر والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری فقط جائز اور مباح امور میں لازم ہوتی ہے، لہٰذا اگر والدین اپنے ذاتی اختلافات کی وجہ سے اولاد کو اپنے رشتہ داروں سے قطع تعلقی کا حکم دیں، یا بلا کسی وجہ کے بالغ اولاد کے پسند ناپسند کا خیال نہ رکھیں تو ایسی صورت میں ان کی اطاعت اگرچہ لازم نہ ہوگی، مگر اس وقت بھی کوئی ایسا طرز عمل اپنانا جو والدین کی دل آزاری کا باعث بنے درست نہیں جس سے احترازم لازم ہے۔


کما فی أحکام القرآن للجصاص: باب بر الوالدین. قال اللہ تعالی واعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا وبالوالدین إحسانا، فقرن تعالی ذکرہ إلزام بر الوالدین بعبادتہ وتوحیدہ وأمر بہ کما أمر بہما، کما قرن شکرہما بشکرہ فی قولہ تعالی: أن اشکر لی ولوالدین إلی المصیر، وکفی بذلک دلالۃ علی تعظیم حقہما ووجوب برہما والإحسان إلیہما (إلی قولہ) قال أبوبکر: فطاعۃ الوالدین واجبۃ فی المعروف لا فی معصیۃ اللہ، فإنہ لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔ اھـ (ج۳، ص۱۵۵)


وفی عمدۃ القاري: وقال ابن دقیق العید: ضبط الواجب من الطاعۃ لہما والمحرم من العوق ما لہما فیہ عسر، ورتب العقوق مختلفۃ، وقال ابن عبد السلام: لم أقف فی عقوق الوالدین ولا فیما یختصان بہ من الحقوق علی ضابط اعتمد علیہ، فأیما یحرم فی حق الأجانب فہو حرام فی حقہما وما یجب للأجانب فہو واجب لہما، ولا یجب علی الولد طاعتہما فی کل ما یأمران بہ ولا فی کل ما ینہیان عنہ باتفاق العلماء، وقال الشیخ تقی الدین السبکی: إن ضابط العقوق إیذاؤہما بأی نوع کان من أنواع الأذی، قل أو کثر، نہیا عنہ أو لم ینہیا أو یخالفہما فیما یأمران أو ینہیان بشرط انتفاء المعصیۃ فی الکل، وحکی قول الغزالی: أن أکثر العلماء علی وجوب طاعتہما فی الشبہات، ووافقہما علیہ، وحکی قول الطرطوسی من المالکیۃ: أنہما إذا نہیاہ عن سنیۃ راتبۃ المرۃ بعد المرۃ أطاعہما، وان کان ذلک علی الدوام فلا طاعۃ لہما فیہ لما فیہ من إماتۃ الشرع، ووافقہ علی ذلک أیضًا۔ اھـ (ج۲۲، ص۸۶)


فى مشكاة المصابيح مع شرحه مرقاة المفاتيح: تحت الحدیث: عن ابن عمرو ـ رضى الله عنهما ـ قال: قال رسول اللہ ـ صلي الله عليه وسلم ـ : ’’لیس الواصل بالمکافیء، ولکن الواصل الذی إذا قطعت رحمہ وصلہا‘‘۔ رواہ البخاری۔


وفي المرقاة: (وصلہا) أی: قرابتہ التی تقطع عنہ، وہذا من باب الحث علی مکارم الأخلاق کقولہ تعالیٰ: ﴿ادفع بالتی ہی أحسن السیئۃ﴾ [المؤمنون:۹۶] وفی آیۃ أخری ﴿ولا تستوی الحسنۃ ولا السیئۃ ادفع بالتی ہی أحسن فإذا الذی بینک وبینہ عداوۃ کأنہ ولی حمیم وما یلقاہا إلا الذین صبروا وما یلقہا إلا ذو حظ عظیم﴾ [فصلت: ۳۴-۳۵]، ومنہ قولہ ـ صلي الله عليه وسلم ـ : علی ما رواہ البخاری عن علي ـ رضى الله عنه ـ : ’’صل من قطعک وأحسن إلی من أساء إلیک، وقل الحق ولو علی نفسک‘‘۔ اھـ (ج۷، ص۳۰۸۶)


وفی الدر المختار: (وصلۃ الرحم واجبۃ ولو) کانت (بسلام وتحیۃ وہدیۃ) ومعاونۃ ومجالسۃ ومکالمۃ وتلطف وإحسان ویزورہم غبا لیزید حبا بل یزور أقرباءہ کل جمعۃ أو شہر ولا یرد حاجتہم لأنہ من القطیعۃ فی الحدیث ’’إن اللہ یصل من وصل رحمہ ویقطع من قطعہا‘‘ وفی الحدیث ’’صلۃ الرحم تزید فی العمر‘‘ اھـ۔ (ج۶، ص۴۱۱) واللہ اعلم بالصواب