(+92) 0317 1118263

سود

ادھار فروخت کی ہوئی چیز نقد پر واپس خریدنا

ادھار فروخت کی ہوئی چیز نقد پر واپس خریدنا فتوی نمبر: 28414

الاستفتاء

میں سودے بازی کا کام کرتا ہوں، ایک کار دس لاکھ روپے کی ہے اور ہم بارہ لاکھ روپے کی چھ ماہ کے ٹائم پر بیچ کر دس لاکھ واپس نقد پر لیتے ہیں، تو کیا یہ جائز ہےیا سود میں آتا ہے؟

الجواب حامدا و مصلیا

بیع کی مذکور صورت سود کھانے کا ایک حیلہ ہے جو شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔


في سنن ٲبي داؤد: عن ابن عمر، قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ‘‘إذا تبایعتم بالعینۃ وأخذتم أذناب البقر، ورضیتم بالزرع وترکتم الجہاد سلّط اللہ علیکم ذلًّالا ینزعہ حتی ترجعوا إلٰی دینکم’’۔ (ج۵، ص۳۳۲)


وفی الدرّ المختار: أمر الأصیل الکفیل ببیع العینۃ أي بیع العین بالربح نسیئۃ لیبیعہا المستقرض بأقل لیقضی دینہ، اخترعہ أکلۃ الربا وہو مکروہ مذموم شرعًا لما فیہ من الإعراض عن مبرّۃ الإقراض۔ الخ (ج۵، ص۳۲۵) واللہ اعلم