(+92) 0317 1118263

کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء

جھینگاکی کھانے کی شرعی حیثیت

جھینگاکی کھانے کی شرعی حیثیت فتوی نمبر: 28329

الاستفتاء

ہم لوگ بچپن سے جھینگے کھاتے آئے ہیں، لیکن کچھ عرصے سے مختلف باتیں سننے میں آرہی ہیں، کوئی کہتا ہے کہ حرام ہے، کوئی کہتا ہے کہ حلال ہے، اور کوئی کہتا ہے کہ مکروہ ہے، لہٰذا آپ ہی بتائیں کہ اس کی شرعی کیا حیثیت ہے؟

الجواب حامدا و مصلیا

حضرات احناف رحمہم اللہ کے مذہب کے مطابق سمندری جانوروں میں مچھلی کے علاوہ تمام جانوروں کا کھانا ناجائز اور حرام ہے، البتہ جھینگے کے متعلق علماء کی آراء مختلف ہیں، بعض فقہاء کرام نے اہل عرب کے عرف کے مطابق مچھلی کی اقسام میں شمار کیا ہےاور کھانے کی اجازت دی ہے اور بعض نے اسے کیڑا شمار کیا ہے اور ناجائز قرار دیا ہے، اس لئے اولیٰ اور افضل یہ ہے کہ اس کے کھانے سے اجتناب کیا جائے۔


کما فی الہدایة: ولا یوکل من حیوان الماء إلا السمک (إلی قوله) ولنا قولہ تعالی: ویحرم علیہم الخبائث وما سواء السمک خبیث۔ (ج۴، ص۴۴۲) واللہ اعلم!