(+92) 0317 1118263

طلاق

ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟ فتوی نمبر: 25910

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر شوہر نے بیوی کو ایک کاغذ پر تین مرتبہ طلاق لکھ کر دے دی تو طلاقیں واقع ہوں گی یا نہیں؟ اگر واقع ہوں گی تو کتنی؟ مزید یہ کہ مذکورہ صورت میں لڑکا اہلحدیث مسلک سے تعلق رکھتا ہو اور لڑکی اہل سنت والجماعت سے تو پھر کیا حکم ہے؟

الجواب حامدا و مصلیا

واضح ہو کہ قرآن و سنت کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاقیں، خواہ ایک جملہ سے دی ہوں یا الگ جملوں سے دی ہوں تین طلاقیں ہی شمار ہوتی ہیں، حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین عظام کا بھی اس پر اتفاق ہےنیز ائمہ اربعہ کا بھی یہی مسلک ہے، اس لئے صورتِ مسئولہ میں مذکورشخص کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت ِمغلظہ ثابت ہوچکی ہے اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا چنانچہ مذکور لڑکی کو چاہیے کہ اس سے فوراً علیحدگی اختیار کرے اور اپنے آپ کو حرام کاری کیلیے پیش نہ کرے۔