حضرت عمرؓ نے باندی کو درہ مارکر فرمایا : القی عنك الخمار اتشبھین بالحرائر ‘‘ آخر یہ بھی تو عورت ہے ،اور آپ رضی اللہ عنہ پردے کے معاملے میں بڑے سخت تھے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کافرہ عورت پر چادر ڈال دی تھی، تو حضرت عمرؓ کی طرف یہ کس طرح منسوب کیا جا سکتا ہے؟
لونڈیاں چونکہ شرعاً پردے کی پابند نہیں اور ان کا مخصوص لباس ہوتا تھا جس کی وجہ سے وہ پہچانی جاتی تھیں چنانچہ وہ لونڈیاں اگر اپنے حدود سے تجاوز کرتیں جس سے وہ آزاد عورتوں کے مشابہ معلوم ہوتیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس قانون شکنی پر انہیں تنبیہ فرمایا کرتے تھے جبکہ نبی کریمﷺ نے جس کافرہ عورت پر چادر ڈالی وہ آزاد تھی۔
کما فی البحر الرائق: (وأمۃ غیرہ کمحرمہ) لأنہا تحتاج إلی الخروج لحوائج مولاہا فی ثیاب بذلۃ وحالہا مع جمیع الرجال کحال المرأۃ مع محارمہا وکان عمر رضی اللہ إذا رأی أمۃ مقنعۃ علاہا بالدرۃ وقال ألقی عنک الخمار أتتشبہین بالحرائر یا دفار، واعترض کیف عزرہا علی الستر الذی ھو جائز والتعزیز انما یکون علی ارتکاب المحظورات والمحرمات وأجیب بأنہ انما فعل ذالک لأن الفساق إذا تعرضوا للحرائر کان ذالک أشد فسادًا و التعرض للإماء دون ذلک فی الفساد ففعل ذلک لئلا یجب الأوّل فیکون فیہ تقلیل الفساد الخ (ج:۸ ص:۱۹۵) واللہ اعلم
جوائنٹ فیملی میں حجاب و پردے کا حکم- انتقال کے بعد میاں بیوی کے رشتہ کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0مرد ڈاکٹر کا مریض عورتوں کو دیکھنے ،چھونے اور طالبات کو نرسنگ سیکھانے کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0غیر محرم کے سامنے بغیر پردہ اور ننگے سر پھرنا گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0