محترم جناب مفتی صاحب ! ہمارا اپنا کتابوں اور جرائد کے ہول سیل کا کاروبار ہے ،اور مختلف قسم کے جریدوں کے ہم ایجنٹ بھی ہیں ،اور ہماری اپنی مشہور اشاعت بھی ہے ۔ مختلف قسم کے جرائد جیسے فلم اور اور اخباری جریدے ہمارے پاس آتے ہیں ، اور عام تعلیمی ، جنسی تعلیم کے متعلق ، اور کمپیوٹر وغیرہ بھی ، گندے جرائد بھی ، اور ہندومت اور اُنکے کے بتوں کے متعلق اور الوہیت اور ان کے مختلف شرائع کے بارے میں بھی،اور یہ بھی معلوم ہو کہ یہاں ہمارے ہاں کا روبار مقابلہ پر چل رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمیں بھی اسی قسم کے جرائد وغیرہ اپنے ہاں رکھنے پڑتے ہیں۔
اسی طرح قصے کہانی (با تصویر) ، طباخی (کھانے پکانے کے متعلق) ، تعلیمی ، صحت کے متعلق ،مزاحی (با تصویر) فلمی گانوں کی اور ہندو مذہبی کتابیں بھی شائع کرتے ہیں ۔ یہ سب جائز ہے کہ نہیں ؟
محترم ! ہمارے خاندان میں کوئی دین پر قائم پابند شریعت نہیں ہے ۔ میں فرد واحد ہوں جو مدرسہ میں پڑھ رہا ہوں اور اللہ تعالی کا شکر ہے کہ اس نے مجھے دین کی سوچ سمجھ عطا فرمائی ہے۔ نیز حرام و حلال کی تمیز کی فکر عطا کی ہے۔ لیکن میری مالی معاونت کرنے والا کوئی نہیں اورمیں ان کے آگے کچھ کہہ نہیں پاتا، اور کم طاقت رکھتا ہوں۔ براہِ کرم آپ بتائیں کہ مذکور کاروبار جائز ہے کہ نہیں؟ اور جائز نہیں ہے تو میرے لئے کیا حکم ہے؟
سائل کے والد وغیرہ کا کاروبار چونکہ جائز و ناجائز دونوں امور پر مشتمل اور یہی ان کا ذریعۂ آمدن ہے، اس لئے سائل کو ان سے بقدرِ ضرورت خرچہ وغیرہ لینا اگر چہ جائز ہے، مگر اس کے والدین وغیرہ کو ایسی کتابوں، رسائل اور جرائد وغیرہ کی اشاعت اور خرید و فروخت سے احتراز لازم ہے جو فحش یا شرکیہ مضامین پر مشتمل ہوں، البتہ جو کتب وغیرہ مذکور ناجائز امور پر مشتمل نہ ہوں، ان کا کاروبار اور خرید و فروخت جائز ہے۔
قال الله تعالى: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ َنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ﴾ (لقمان: 6)-
وفي الفتاوى الهندية: ويجوز بيع البربط والطبل والمزمار والدف والنرد وأشباه ذلك في قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى وعندهما لا يجوز بيع هذه الأشياء قبل الكسر ذكر المسألة في إجارات الأصل من غير تفصيل وذكر في السير الكبير تفصيلا على قولهما فقال إن باعها ممن لم يستعملها ولا يبيع هذا المشتري ممن يستعملها فلا بأس ببيعها قبل الكسر فإن باعها ممن يستعملها أو يبيعها هذا المشتري ممن يستعملها لا يجوز بيعها قبل الكسر قال شيخ الإسلام رحمه الله تعالى ما ذكر من الإطلاق في الأصل محمول على التفصيل المذكور في السير كذا في الذخيرة اھ (3/ 116)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0