میں جہاں نماز پڑھنے جاتا ہوں ، وہاں میں نے نوٹ کیا کہ جائے نماز پر بہت جانوروں کی تصویریں بنی ہوتی ہیں ، کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ شیطان یا جانور کی تصویر ہیں ، میں شروع سے نماز پڑھ رہا ہوں ، لیکن نماز میں دھیان نہیں رہتا ، تصویروں کی طرف چلا جاتا ہے، تصویریں بھی نظر آتی ہیں ، کیا ایسی جائے نماز پر نماز ہو جائے گی؟ میں نے بہت مسجدوں میں اس طرح نوٹ کیا ہے۔
سائل نے جن قالینوں کے متعلق پوچھا ہے، اگر ان قالینوں پر واقعۃً واضح تصاویر ہوں تو ان قالینوں پر نماز پڑھنا مکروہ اور ایسی قالینوں کو مسجد سے ہٹا دینا لازم ہے۔
فى الفتاوى الهندية : و يكره أن يصلي و بين يديه أو فوق رأسه أو على يمينه أو على يساره أو في ثوبه تصاوير و في البساط روايتان و الصحيح أنه لا يكره على البساط إذا لم يسجد على التصاوير و هذا إذا كانت الصورة كبيرة تبدو للناظر من غير تكلف . كذا في فتاوى قاضي خان و لو كانت صغيرة بحيث لا تبدو للناظر إلا بتأمل لا يكره اھ (1/ 107)۔