احکام نماز

نماز کی رکعات میں شک ہو جائے تو اعادہ کرے یا سجدہ سہو؟

فتوی نمبر :
22938
| تاریخ :
2014-05-24
عبادات / نماز / احکام نماز

نماز کی رکعات میں شک ہو جائے تو اعادہ کرے یا سجدہ سہو؟

السلام علیکم!
میرا سوال یہ ہے کہ اگر ظہر کی فرض رکعت میں نہ پتہ ہو کہ، تین رکعت ہے یا چار رکعت؟ یا سلام پھیرنے کے بعد پتہ چلا، تو کیا وہ اعادہ کرے یا سجدہ سہو؟ براہِ کرم جلدی جواب دینا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

نماز میں اس طرح کا شک اگر پہلی بار یا کبھی کبھی ہو ،تو نماز کا اعادہ کیا جائے، اور اگر شک اکثر اوقات ہوتا ہو ،تو تحری اور غور وفکر کے بعد غالب اندازہ پر عمل کرے، جبکہ نماز کے بعد اس طرح کی صورتِ حال کا علم ہو جائے، اور نماز کے بعد کوئی منافی نماز کام بھی کر گزرا ہو، تو نماز کا اعادہ لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الهدایة: " ومن شك في صلاته فلم يدر أثلاثا صلى أم أربعا وذلك أول ما عرض له استأنف " لقوله عليه الصلاة والسلام " إذا شك أحدكم في صلاته أنه كم صلى فليستقبل الصلاة " " وإن كان يعرض له كثيرا بنى على أكبر رأيه " لقوله عليه الصلاة والسلام " من شك في صلاته فليتحر الصواب " " وإن لم يكن له رأي بنى على اليقين " لقوله عليه الصلاة والسلام " من شك في صلاته فلم يدر أثلاثا صلى أم أربعا بنى على الأقل " اھ (۱/۱۶۰)
وفی الدر المختار: (وإذا شك) في صلاته (من لم يكن ذلك) أي الشك (عادة له) اھ (2/ 92)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله في صلاته) قال في فتح القدير: قيد به لأنه لو شك بعد الفراغ منها أو بعد ما قعد قدر التشهد لا يعتبر إلا إذا وقع في التعيين فقط، بأن تذكر بعد الفراغ أنه ترك فرضا وشك في تعينه، قالوا: يسجد سجدة ثم يقعد ثم يصلي ركعة بسجدتين ثم يقعد ثم يسجد للسهو اھ (2/ 92) والله اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد علیم بدل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 22938کی تصدیق کریں
0     1111
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات