(1)میں نے پانچ ہزار روپے ماہانہ کی بیسی ڈالی اور میری پہلی بیسی کھلی،جس سے مجھے ایک لاکھ مل جاتے ہیں تو کیا میں ایک لاکھ روپے کا مالک کہلاؤں گا؟ یا صرف پانچ ہزار کا اور قربانی کے ایام میں کیا مجھ پر قربانی واجب ہوگی یا نہیں؟جبکہ ان بیسی کے پیسوں کے علاوہ کوئی اور نصاب نہیں ہے۔
(2)اسی طرح اگر میں نے ایک بیسی ڈالی پانچ ہزار ماہانہ کی اور میری بیسی کھلی نہ ہو اور میں 15بیسی کے پچھتر ہزار (75000) ادا کرچکا ہوں،جبکہ میرا اٹھارواں(18) نمبر ہے، تو کیا میں پچھتر ہزار (75000) کا مالک کہلاؤنگا اور قربانی کے ایام میں کیا مجھ پر قربانی واجب ہوگی یا نہیں؟ جبکہ میرے پاس اور پیسے نہ ہوں اور بیسی 2ماہ بعد کھلے گی۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور پہلی صورت میں سائل صرف پانچ ہزار کا مالک ہے،جبکہ بقیہ رقم اس کے ذمہ قرض ہے، اس لئے صاحبِ نصاب نہ ہونے کی وجہ سے اس پر قربانی واجب نہ ہوگی،جبکہ دوسری صورت میں پندرہ(15)ماہ کی بیسی پچھتر ہزار(75000) روپے جمع کرنے کی وجہ سے سائل کا دوسروں کے ذمہ قرض واجب الوصول ہے،لہذا سائل صاحبِ نصاب بن چکا ہے، اس لئے ایامِ قربانی میں اس پر قربانی بھی واجب ہوگی۔
کمافی الفتاوی الھندیة: (وأما) (شرائط الوجوب) : منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة(الیٰ قولہ)ولو كان عليه دين بحيث لو صرف فيه نقص نصابه لا تجب اھ(5/295)۔